طوفانی سیلاب سے تباہ حال لیبیا میں امدادی سرگرمیاں جاری
اقوام متحدہ کی ٹیمیں مشرقی لیبیا میں آںے والے غیرمعمولی سیلاب کے باعث تباہی کا سامنا کرنے والے علاقوں میں ضروری مدد پہنچانے کے لیے انتھک کام کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کی ٹیمیں مشرقی لیبیا میں آںے والے غیرمعمولی سیلاب کے باعث تباہی کا سامنا کرنے والے علاقوں میں ضروری مدد پہنچانے کے لیے انتھک کام کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ میں امدادی امور کے دفتر کے سربراہ مارٹن گرفتھس نے کہا ہے کہ مراکش اور لیبیا میں دو مختلف طرح کی تباہی اور سوگوار خاندانوں کو درپیش ناقابل بیان صدمے کے بعد اقوام متحدہ متاثرین کے لیے امدادی کوششوں کو متحرک کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی کارکن لیبیا میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے ہزاروں متاثرین کو اشد ضروری مدد پہنچانے کے لیے ہرممکن تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ اس سیلاب میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مزید ہزاروں لاپتہ ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے اور شراکت دار مشرقی لیبیا میں شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے ہلاکت خیز سلاب اور جانی نقصان سے ہونے والی تباہی کے بعد امدادی اقدامات میں مصروف ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مراکش کے وسطی علاقے میں جمعے کی رات آنے والے خوفناک زلزلے پر گہرے دکھ اور حکومت اور ملک کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 1,000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہےکہ افریقہ بھر میں ناانصافی کی آگ امیدوں اور امکانات کو بھسم کیے دیتی ہے جبکہ دنیا کو موسمیاتی بحران کا سامنا ہے اور یہ براعظم عالمی حدت کے بعض بدترین اثرات جھیل رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت 'یو این ایچ سی آر' اور 64 امدادی اداروں اور سول سوسائٹی کی قومی تنظیموں نے سوڈان سے نقل مکانی کرنے والے 1.8 ملین سے زیادہ لوگوں کو ضروری امداد اور تحفظ کی فراہمی کے لیے ایک بلین ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ افریقہ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے وہاں بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے مگر وہ اس بحران سے مطابقت پیدا کرنے، اس سے نمٹنے اور اپنی زندگی کی بقا کے لیے درکار مالی مدد سے محروم ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے نیجر میں انسانی راہداری قائم کرنے کے لیے کہا ہے تاکہ بھٹکتے مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی ممکن بنائی جائے۔
افریقہ بھر میں یکے بعد دیگرے فوجی بغاوتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے پائیدار جمہوری حکمرانی اور نفاذ قانون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔