سلامتی کونسل: سوڈان خانہ جنگی پر برطانوی قرارداد روس نے ویٹو کر دی
سوڈان میں متحارب عسکری دھڑوں کے مابین لڑائی کا فوری خاتمہ کرنے اور قومی سطح پر جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد روس نے ویٹو کر دی ہے۔
سوڈان میں متحارب عسکری دھڑوں کے مابین لڑائی کا فوری خاتمہ کرنے اور قومی سطح پر جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں پیش کردہ قرارداد روس نے ویٹو کر دی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ نے کہا ہے کہ گزشتہ دہائی میں سیاہ فام لوگوں کے انسانی حقوق کو تحفظ اور فروغ دینے میں پیش رفت کے باوجود دنیا بھر میں نسل پرستی اور امتیاز بدستور برقرار ہے۔
انسانی حقوق پر اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے سوڈان میں شہریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ حال ہی میں سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور ریپڈ سپورٹ فورسز(آر ایس ایف) کے درمیان جاری تنازعہ تشدد اور انسانی حقوق کی پامالی کی تباہ کن سطح تک پہنچ چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جنگ سے تباہ حال سوڈان میں قحط کے بعد ہیضے اور ڈینگی کی وبا پھیلنے اور ان سے بڑی تعداد میں اموات کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان کے متحارب عسکری دھڑوں کی وحشیانہ لڑائی میں وہاں کے لوگوں کو ہولناک تشدد، بھوک، بیماری اور بے گھری کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سلامتی کونسل میں افریقہ کے لیے دو مستقل نشستوں اور براعظم کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے اس کی مضبوط مالی مدد پر زور دیتے ہوئے عالمی اداروں میں اصلاحات کے مطالبے کو دہرایا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے مصر کو ملیریا سے پاک ملک قرار دے دیا ہے جہاں قدیم ادوار سے چلی آ رہی اس بیماری کو ختم کرنے کے لیے ایک صدی سے جاری کوششیں اب کامیابی سے ہمکنار ہو گئی ہیں۔
برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ بحر ہند میں جزائر چاگوس کو موریشس کے حوالے کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس طرح افریقہ میں برطانیہ کی آخری نوآبادی کی ملکیت پر تنازع اور اسے حل کرنے کے لیے جاری بات چیت اختتام کو پہنچ گئے ہیں۔
سوڈان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے نامزد ماہر نے ملکی فوج اور اس کے مخالف عسکری دھڑے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) سے کہا ہے کہ وہ خرطوم کے شہریوں کو تحفظ دیں جہاں تشدد اور ماورائے عدالت ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔
انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے مقرر کردہ غیرجانبدار ماہرین نے کہا ہے کہ نفاذ قانون کے عمل میں اپنے حقوق کی پامالیوں کا سامنا کرنے والے افریقیوں اور افریقی النسل لوگوں کو عدم احتساب کے باعث کبھی انصاف نہیں مل سکا۔