افغانستان: فنڈنگ کی کمی، عالمی ادارہ خوراک راشن بندی پر مجبور
افغانستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک نے اعلان کیا ہے کہ مالی وسائل کی قلت کے باعث مارچ میں کم از کم چار ملین لوگوں کے لیے تحفظِ زندگی میں مددگار امداد میں کمی واقع ہو گئی ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک نے اعلان کیا ہے کہ مالی وسائل کی قلت کے باعث مارچ میں کم از کم چار ملین لوگوں کے لیے تحفظِ زندگی میں مددگار امداد میں کمی واقع ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے کہا ہے کہ موسمیاتی مسائل سے متاثرہ اور غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے وسطی سیحل خطے کے بچے تیزی سے مسلح تنازعات کا شکار ہو رہے ہیں۔
عالمی موسمیاتی دفتر (ڈبلیو ایم او) نے کہا ہے کہ منطقہ حارہ کا طوفان فریڈی اب تک اپنی نوعیت کا طویل ترین طوفان بن سکتا ہے جس نے حالیہ کئی ہفتوں کے دوران مڈغاسکر اور موزمبیق میں دوسری مرتبہ لوگوں کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے افریقن یونین کی کانفرنس سے اپنے خطاب میں مربوط، خوشحال اور پُرامن افریقہ کے لیے اپنے حمایت کا اظہار کیا ہے۔ یہ کانفرنس ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں منعقد ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ایتھوپیا کے دارالحکومت میں افریقن یونین کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیبیا میں حالیہ سیاسی تعطل پر قابو پا کر وہاں بے شمار بحرانوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری پیش رفت ممکن ہے۔
عالمی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) اور اس کے شراکت دار شاخِ افریقہ میں دس لاکھ سے زیادہ مہاجرین اور ان کی میزبان آبادیوں کو انسانی و ترقیاتی امداد مہیا کرنے کے لیے 84 ملین ڈالر کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے صومالیہ کے وفاقی و ریاستی حکام کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ اس سال ملک میں 76 لاکھ افراد کے لیے 2.6 ارب ڈالر امداد کی ضرورت ہے۔
یو این ویمن کے زیر اہتمام ایک ٹرسٹ فنڈ نے اعلان کیا ہے کہ زیمبیا کی پولیس کو قیام امن کی عالمگیر کارروائیوں میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے قریباً ایک ملین ڈالر دیے جائیں گے۔
اس سال دنیا بھر میں بیالیس لاکھ لڑکیوں کو جنسی اعضاء کی قطع یا 'ایف جی ایم' کا خطرہ لاحق ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس عمل کو ''بنیادی انسانی حقوق کی گھناؤنی خلاف ورزی'' قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو کو افریقہ کے سب سے بڑے غذائی بحران کا سامنا ہے جہاں خوراک کی طلب بڑھتی جا رہی ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے دستیاب مالی وسائل سکڑ رہے ہیں۔