بحران کا پس منظر: سوڈان کی صورتحال پورے افریقہ کے لیے تشویشناک
اپریل 2019 میں سابق صدر عمر حسن البشیر کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد سوڈان میں سویلین حکمرانی کی جانب منتقلی کا عمل پُرآشوب حالات سے دوچار ہے۔
اپریل 2019 میں سابق صدر عمر حسن البشیر کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد سوڈان میں سویلین حکمرانی کی جانب منتقلی کا عمل پُرآشوب حالات سے دوچار ہے۔
سوڈان میں متحارب عسکری دھڑوں کے مابین جاری لڑائی کے باعث اقوام متحدہ کو ملک بھر میں اپنی تمام امدادی کارروائیاں لازمی طور سے روکنا پڑی ہیں تاہم بحیرہ قلزم کے ساحلی علاقے پورٹ سوڈان میں منتقل ہونے والے امدادی حکام جلد از جلد خرطوم واپسی کا عزم رکھتے ہیں۔
سوڈان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے 11 روزہ لڑائی میں ملک کو افراتفری میں دھکیلنے والے متحارب عسکری دھڑوں سے کہا ہے کہ وہ سہ روزہ متفقہ جنگ بندی کا مکمل احترام کریں جبکہ مغربی ڈارفر میں فرقہ وارانہ تشدد اور حملوں پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
سوڈان میں بڑھتی ہوئی ضروریات، اہم چیزوں کی قلت اور قیمتوں میں تیزتر اضافے کے ہوتے ہوئے اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے وعدہ کیا ہے کہ لوگوں کو اشد ضروری امداد کی فراہمی جاری رہے گی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سوڈان میں متحارب عسکری دھڑوں کے مابین شدید لڑائی کے باعث ادارے کے عملے کے سینکڑوں ارکان اور ان کے اہلخانہ کی دارالحکومت خرطوم سے عارضی منتقلی کا خیرمقدم کیا ہے۔
اقوام متحدہ سوڈان میں عسکری طاقت سے حصول اقتدار کی لڑائی کو فوری ختم کرنے کی اپیل کر رہا ہے. سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش، افریقن یونین، عرب لیگ، مشرقی افریقی بلاک اور دیگر تنظیموں نے اس بحران پر جمعرات کو ورچوئل اجلاس کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش سوڈان میں لڑائی کا خاتمہ یقینی بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں جبکہ متحارب عسکری دھڑوں کے مابین نئی جنگ بندی اور لوگوں کے ملک چھوڑ کر سرحد پار چاڈ جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے سوڈان میں لڑائی فوری بند کرنے اور اقتدار کے لیے برسرپیکار متحارب عسکری فریقین سے مذاکرات کی جانب واپس آنے کی درخواست کی ہے جبکہ ملک میں 24 گھنٹے کی مجوزہ جنگ بندی کی اطلاعات ہیں۔
سوڈان بھر میں مسلح لڑائی میں شدت آنے کے بعد اقوام متحدہ کے حکام نے متحارب عسکری دھڑوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ دیں اور ملک کی عالمی ذمہ داریوں کا احترام کریں۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے سوڈان میں متحارب عسکری گروہوں کے مابین لڑائی کے باعث ملک میں اپنی تمام کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ اس لڑائی میں ہفتے کے روز ڈبلیو ایف پی کے تین ملازمین بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔