حالیہ لڑائی سے سوڈان میں خوراک کی ریکارڈ کمی کا خدشہ
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں ریکارڈ سطح کی بھوک پھیلنے کا سنگین امکان دن بدن مزید واضح ہوتا جا رہا ہے جبکہ ملک میں بڑے پیمانے پر لڑائی بدستور جاری ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں ریکارڈ سطح کی بھوک پھیلنے کا سنگین امکان دن بدن مزید واضح ہوتا جا رہا ہے جبکہ ملک میں بڑے پیمانے پر لڑائی بدستور جاری ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے مرکزی دفاتر میں لوٹ مار کی کڑی مذمت کرتے ہوئے اسے امدادی سہولیات کی ''پامالی'' قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ افریقہ میں قدرتی وسائل سے مالا مال علاقے 'گریٹ لیکس' میں دیرینہ مسلح تنازعات کو ختم کرنے کے لئے فوری اور موثر کوششوں کی ضرورت ہے۔
قوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے ادارے نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سوڈان میں فوج کی باہمی لڑائی سے بچ کر آنے والوں کے لیے سرحدیں کھلی رکھیں اور بیرون ملک سوڈانی لوگوں کو پناہ دینے کے خلاف فیصلے معطل کریں جو جنگ کے باعث واپس نہیں جا سکتے۔
ایتھوپیا میں اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے کہا ہے کہ اسے ٹیگرے میں جنگ کے بعد غذائی امداد کی بڑی مقدار شدید ضرورت مند لوگوں کو فراہم نہ کئے جانے کی اطلاعات پر ''شدید تشویش'' ہے۔
سوڈان میں جاری لڑائی کے باعث 860,000 لوگوں کے ملک سے نقل مکانی کرنے کی توقع ہے۔ ان حالات میں اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' اور اس کے شراکت داروں نے اکتوبر تک بے گھر لوگوں کی مدد کے لئے 445 ملین ڈالر مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ سوڈان میں مسلح تنازعے اور بڑھتی ہوئی انسانی تباہی سے ملک اور خطے میں مزید غارت گری ہونے سے پہلے لڑائی کا فوری بند ہو جانا ضروری ہے۔
اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے امور سے متعلق ادارے (یو این ایچ سی آر) نے بتایا ہے کہ 100,000 سے زیادہ لوگ تحفظ کی تلاش میں سوڈان سے ہمسایہ ممالک کو جا چکے ہیں۔
ڈبلیو ایف پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی مکین نے بتایا ہے کہ ادارے نے سوڈان میں اپنی کارروائیوں کی عارضی معطلی ختم کر دی ہے جبکہ متحارب عسکری دھڑوں کے درمیان جاری لڑائی کے باعث لاکھوں لوگ بھوک کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے کہا ہے کہ سوڈان کے شہری، بڑی تعداد میں اندرون ملک بے گھر ہو جانے والے لوگ اور مہاجرین تحفظ کی جدوجہد کر رہے ہیں اور ملک میں جاری تشدد کے تباہ کن نتائج بھگت رہے ہیں جبکہ بہت سی امدادی کارروائیاں رک گئی ہیں۔