انسانی کہانیاں عالمی تناظر
کھلے سمندر میں ایک سرخ تیل ٹینکر جہاز کا فضائی منظر۔

انٹرویو: بحری جہاز اور ملاح غیر متعلقہ تنازعات کا شکار ہو رہے ہیں

© Unsplash/Shaah Shahidh ایک بحری آئل ٹینکر۔

انٹرویو: بحری جہاز اور ملاح غیر متعلقہ تنازعات کا شکار ہو رہے ہیں

انٹرویو: ڈینیئل ڈکنسن
امن اور سلامتی

بحری جہاز رانی کی عالمی صنعت کو آج کئی طرح کے خطرات کا سامنا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اور اب ایسے تنازعات میں بھی بحری جہازوں اور ان کے عملے کو مہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جن سے ان کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر، صومالیہ کے ساحلی سمندری علاقے اور بحیرہ اسود بیک وقت خطرناک جنگی محاذ بن چکے ہیں۔ بحری جہاز رانی کی صنعت نے اس سے پہلے کبھی اس قدر بڑے پیمانے پر ایک ساتھ اتنے خطرات نہیں دیکھے۔

اقوام متحدہ کے عالمی بحری ادارے(آئی ایم او) میں شعبہ بحری سلامتی کے ڈائریکٹر ڈیمیئن شیولیئر نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے اس خطرے کی شدت اور بحری جہازوں اور عملے کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات پر روشنی ڈالی ہے۔

سوال: بحری جہاز رانی کی صنعت کو کیسے بحران کا سامنا ہے؟

ڈیمیئن شیولیئر: یہ پہلا موقع ہے کہ بیک وقت متعدد خطوں میں اس قدر بڑی تعداد میں بحری جہازوں اور ان کے عملے کو خطرات لاحق ہیں۔ آبنائے ہرمز کا بحران اس لحاظ سے غیرمعمولی ہے کہ تنازع کے آغاز میں تقریباً دو ہزار بحری جہاز اور عملے کے 20 ہزار ارکان اس سے متاثر ہوئے۔

جہاز رانی کی صنعت کو بیک وقت کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔ ان میں آبنائے ہرمز کے علاوہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے اور صومالیہ کے قریب بحری قزاقی میں بڑے پیمانے پر اضافے جیسے خطرات شامل ہے جہاں بحری عملے کو یرغمال بنایا جا رہا ہے۔

بحیرہ اسود میں بھی حملے بڑھ گئے ہیں جہاں متحارب فریق ڈرون طیاروں کے ذریعے تیل بردار ٹینکروں اور اناج لے جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہاں یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ کسی بحری جہاز پر حملہ سمندری ماحول کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) میں میری ٹائم سیفٹی ڈویژن کے ڈائریکٹر ڈیمین شیولیئر، اپنے سامنے ایک نام کی تختی کے ساتھ کانفرنس کی میز پر بیٹھے ہیں۔
© IMO اقوام متحدہ کے عالمی بحری ادارے (آئی ایم او) میں شعبہ بحری سلامتی کے ڈائریکٹر ڈیمیئن شیولیئر۔

سوال: صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقی کیوں بڑھ رہی ہے؟

ڈیمیئن شیولیئر: مختلف ممالک کی بحری افواج اس وقت بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں موجود خطرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بحری قزاقوں نے دوبارہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ خاص طور پر چھوٹے اور نسبتاً آسانی سے نشانہ بنائے جانے والے مال بردار بحری جہاز ان کا ہدف بن رہے ہیں۔

بحری قانون کے نفاذ سے متعلق ایک حالیہ اجلاس میں بحری قزاقی کے خلاف کارروائی خاص طور پر زیربحث آئی ہے کیونکہ ایسے واقعات میں تیزی آنے کے ساتھ صومالیہ میں سلامتی کی صورتحال بھی خراب ہو رہی ہے۔

صومالیہ بحری قزاقی کے خلاف نئی قانون سازی پر کام کر رہا ہے جس سے ایک اہم قانونی خلا دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ فی الوقت مسئلہ یہ ہے کہ گرفتار کیے جانے والے بحری قزاقوں کے خلاف انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق کارروائی کے لیے مناسب قانونی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔

سوال: بحیرہ اسود میں جہاز رانی کو کیسے خطرات کا سامنا ہے؟

ڈیمیئن شیولیئر: بحیرہ اسود میں جاری صورتحال کا آبنائے ہرمز کے بحران سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ اگرچہ درست اعداد و شمار کی تصدیق نہیں ہو سکتی، تاہم بحیرہ اسود میں حملوں، نشانہ بننے والے بحری جہازوں اور عملے کے ہلاک یا زخمی ہونے کے واقعات کی تعداد انتہائی تشویش ناک ہے۔

یوکرین کی اناج برآمد کرنے والی بندرگاہوں پر اس وقت روزانہ صرف ایک یا دو بحری جہاز آ رہے ہیں حالانکہ یہ فصل کی کٹائی کا موسم ہے۔ معمول کے حالات میں یہاں روزانہ 20 سے 30 جہاز آنے کی توقع ہوتی ہے۔

حفاظتی لباس پہنے ہوئے تعمیراتی کارکن ایک تعمیراتی سائٹ پر ایک سٹیل بیم کو لگائے جا رہے ہیں۔
© Unsplash/Arron Choi آبنائے ہرمز کی بندش سے تعمیرات، صنعت، نقل و حمل، تجارت اور ہوٹلوں کا کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے۔

سوال: مختلف تنازعات میں بحری جہاز رانی ایک مشترکہ عنصر کیوں بن گئی ہے؟

ڈیمیئن شیولیئر: اس وقت صورتحال کو واقعتاً غیرمعمولی بنانے والی بات صرف واقعات کی تعداد نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود رجحان بھی ہے۔ بحری جہاز رانی کو جان بوجھ کر جغرافیائی سیاسی دباؤ ڈالنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

بحرانوں کے باعث پیدا ہونے والے بحری سلامتی کے خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تجارتی بحری جہاز ممالک کے درمیان تنازعات میں دباؤ ڈالنے کے لیے ہدف کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کا پہلا اثر بحری عملے پر پڑتا ہے۔

دنیا کے مختلف خطوں میں غیر معیاری بحری جہازوں کی موجودگی سے بھی خطرہ بڑھ گیا ہے۔ 'آئی ایم او' اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کام کر رہی ہے جس میں جعلی رجسٹریوں اور بحری جہازوں کی جعلی رجسٹریشن جیسے مسائل سے نمٹنا بھی شامل ہے۔

سوال: اس بحران کے وسیع تر معاشی اثرات کیا ہوں گے؟

ڈیمیئن شیولیئر: اس کے نتائج سنگین اور دور رس ہیں۔ صرف آبنائے ہرمز سے ہی دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے وہاں پیدا ہونے والی رکاوٹ دنیا بھر میں مہنگائی لاتی ہے اور لوگوں کے روزمرہ اخراجات کو متاثر کرتی ہے۔

آبنائے ہرمز اور بحیرہ اسود دونوں کھاد کی ترسیل کے اہم راستے ہیں جبکہ بحیرہ اسود اناج کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس لیے خوراک کا تحفظ بھی خطرے میں ہے۔ اس بحران کے اثرات آئندہ سال تک محسوس کیے جانے کا امکان ہے اور ترقی پذیر ممالک اس سے کہیں زیادہ متاثر ہوں گے۔

بحری جہازوں کے راستے تبدیل کرنے اور اضافی سکیورٹی اقدامات کے باعث بڑھنے والے اخراجات مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں جس سے اشیا کی قیمتوں میں اضافی ہو رہا ہے۔

ایک بڑا کنٹینر جہاز بادل بھری آسمان کے نیچے کھلے سمندر میں سفر کر رہا ہے۔
Unsplash/Sam Deng آبنائے ہرمز سے تیل، مائع قدرتی گیس، سلفر اور کھاد کی بڑی مقدار گزرتی ہے (فائل فوٹو)۔

سوال: اس مسئلے کے تناظر میں طویل مدتی خدشات کیا ہیں؟

ڈیمیئن شیولیئر: غالباً سب سے بڑا خدشہ بحری کارکنوں کی افرادی قوت کے مستقبل سے متعلق ہے کیونکہ بحری کارکنوں کے بغیر بحری جہاز رانی کی صنعت کا وجود ممکن نہیں۔

بحیرہ اسود، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہلاکتوں کے باعث بحری عملے کا رکن ہونا انتہائی خطرناک پیشہ بن گیا ہے۔ بحری کارکنوں کو ایسے خطرات سے نمٹنے کی تربیت نہیں دی جاتی جو سلامتی سے متعلق وسیع تر مسائل یا جغرافیائی سیاسی حالات سے پیدا ہوتے ہیں۔

اس صورتحال کے باعث نوجوان نسل کو اس پیشے کی جانب راغب کرنا مزید مشکل ہو جائے گا کیونکہ انہیں طویل عرصہ تک اپنے خاندان اور دوستوں سے دور رہنے کے ساتھ انٹرنیٹ کی محدود سہولت جیسے مسئلے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

افرادی قوت کی کمی کے اثرات غالباً آئندہ پانچ سے دس برس تک واضح نہ ہوں لیکن اس وقت تک اس مسئلے کو حل کرنا بہت مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ نئے بحری کارکنوں کی بھرتی، تربیت اور انہیں اہلیت حاصل کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔

سوال: اس مسئلے کا موثر حل کیا ہے؟

ڈیمیئن شیولیئر: یہ مسئلہ سفارت کاری، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے احترام اور اقوام متحدہ کے ذریعے تعمیری رابطوں کی بحالی سے ہی حل ہو سکتا ہے۔ اس معاملے میں ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دینے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

بحری جہاز رانی کو لاحق خطرات کو معمول نہیں بننا چاہیے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے صرف بحری جہازوں کو مسلح کرنے سے فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ بعض عناصر جواباً مزید چھوٹے اور زیادہ مشکل سے پکڑے جانے والے ہتھیاروں سے کام لے سکتے ہیں۔ لہٰذا بحری جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے سفارت کاری پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔