جنوبی سوڈان: بینتیو میں موسمیاتی تباہ کاریوں سے نمٹتے پاکستانی امن کار
بدامنی اور قدرتی آفات سے دوچار جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کا مشن (انمس) امن و استحکام لانے اور زندگیوں کو تحفظ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس مشن میں پاکستان کے فوجی دستے بھی شامل ہیں جو بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو سیلاب سے بچانے کے لیے غیرمعمولی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ مشن جولائی 2011 میں قائم کیا گیا تھا جب ملک نے سوڈان سے آزادی حاصل کی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد امن و استحکام کوفروغ دینا اور لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ مشن میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کم و بیش 12 ہزار امن کار شامل ہیں جو نہ صرف سلامتی سے متعلق مسائل سے نمٹنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ مقامی آبادی کو کئی طرح کی مشکلات پر قابو پانے میں بھی ضروری معاونت فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان آرمی کی کور آف انجینئرز کا دستہ اس مشن کا اہم حصہ ہیں جن کی قیادت کرنل عثمان طارق بنگش کے ہاتھوں میں ہے۔ یو این نیوز نے جنوبی سوڈان میں مشن کی ذمہ داریوں، اس میں پاکستانی امن کاروں کے کردار اور اس کام کے نتائج بارے ان سے خصوصی بات چیت کی جس میں انہوں نے بتایا کہ مشکل حالات کے باوجود یہ امن کار لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے گرانقدر کام کر رہے ہیں اور انہیں مقامی آبادی کا بھرپور احترام اور اعتماد حاصل ہے۔
یو این نیوز: آپ اور آپ کے ساتھی جنوبی سوڈان میں کون سی خدمات انجام دے رہے ہیں؟
کرنل عثمان: میری یونٹ انجینئرنگ کور کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ ہم یہاں ریاست یونٹی کے علاقے بینتیو میں ایک بہت بڑے پناہ گزین کیمپ میں تعینات ہیں جہاں گزشتہ پانچ یا چھ سال سے سیلابی صورتحال نے لوگوں کی زندگی مشکل رکھی ہے۔
عام طور پر قیام امن کسی ملک میں اقوام متحدہ کے مشن کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن جنوبی سوڈان کا معاملہ قدرے مختلف ہے کیونکہ یہاں ہمیں سیلاب کے خطرے سے بھی نمٹنا ہوتا ہے۔ ہم نے اس علاقے میں مٹی کے حفاظتے پشتے قائم کیے ہیں جو سیلابی پانی کو بینتیو پناہ گزین کیمپ میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ اس کیمپ کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ ہم حفاظتی پشتوں کو قائم رکھنے اور ان کی مرمت کرنے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔ کبھی بارشوں کے نتیجے میں پانی چڑھنے لگے تو جہاں ضروری ہو وہاں پشتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔
مشن کے اہلکار کیمپ کے لیے درکار سامان کی ترسیل کا راستہ محفوظ رکھنے کی ذمہ داری بھی انجام دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں، یہاں روکونا نامی فضائی پٹی بھی ہے جو بارشوں اور سیلاب کے موسم میں ہوائی جہازوں کے ذریعے رسد کی فراہمی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے اور اسے مشن کے علاوہ اقوام متحدہ کے دیگر ادارے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اسے مسلسل فعال رکھنا مشن کے اہلکاروں کی ایک اور اہم ذمہ داری ہے۔ گزشتہ سال اگست سے اب تک یہاں سے ایک ہزار سے زیادہ پروازیں آئی گئی ہیں۔ یہ پٹی نہ صرف مشن بلکہ اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے کام بھی آتی ہے۔
یو این نیوز: مقامی آبادی کے ساتھ آپ کا تعلق کیسا ہے۔ کیا زبان اور ثقافت کا فرق امن کاروں کے لیے کوئی مشکلات پیدا کرتا ہے؟
کرنل عثمان: جی ہاں زبان اور ثقافت کا فرق موجود ہے لیکن مقامی لوگ جانتے ہیں کہ ہم اقوام متحدہ کے امن مشن میں ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں جن سے ان لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اسی لیے مقامی آبادی کی جانب سے امن کاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جاتا ہے۔ اگر کسی کام میں کوئی مشکل پیش آئے تو یہ لوگ ہر ممکن مدد مہیا کرتے ہیں۔
یو این نیوز: اقوام متحدہ کے مشن میں مختلف قومیتوں کے لوگ باہم مل کر کام کرتے ہیں۔ کیا مختلف ممالک کے مابین جغرافیائی سیاسی مسائل امن مشن میں ان کے اہلکاروں کے کام پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں یا ان کا طرز عمل پیشہ وارانہ رہتا ہے؟
کرنل عثمان: دراصل اقوام متحدہ کثیر الملکی پلیٹ فارم ہے۔ امن مشن میں مختلف خطوں اور قومیتوں کے لوگوں میں مخالفت کا کوئی ماحول نہیں ہوتا، چاہے وہ دفاتر میں کام کر رہے ہوں یا میدان میں ہوں۔ سبھی جانتے ہیں کہ انہوں نے امن قائم کرنا اور اسے فروغ دینا ہے۔
یو این نیوز: جہاں امن مشن تعینات کیا جاتا ہے وہاں مشکل اور خطرناک حالات ہوتے ہیں۔ زبان و ثقافت کے فرق کے علاوہ امن و امان کے مسائل کی موجودگی میں کام کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے میں آپ کو کس طرح کی مشکلات کا سامنا رہتا ہے؟
کرنل عثمان: آپ نے بالکل درست کہا۔ امن مشن میں کام کرنے والے لوگ اپنے ملک، اپنے ماحول اور اہلخانہ سے بہت دور ہوتے ہیں۔ قیام امن کا مسئلہ اپنی جگہ، یہاں ہمیں موسمیاتی مسئلے کا سامنا بھی ہے جس میں کئی طرح کی بیماریوں کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ چنانچہ امن کاروں کو مختلف زبان، ثقافت اور رویوں کا سامنا کرتے ہوئے سلامتی سمیت مختلف النوع خطرات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ یہاں ہمیں سیلاب سے نمٹنا پڑتا ہے اور مقامی آبادی آگاہ ہے کہ امن کار انہی کے لیے کام کر رہے ہیں، اس لیے وہ ہمارے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
یو این نیوز: اقوام متحدہ کی امن کاری میں پاکستان کا اہم کردار رہا ہے اور میری معلومات کے مطابق، پاکستان ادارے کے لیے دنیا بھر میں اپنے اہلکار مہیا کرنے والا ساتواں بڑا ملک ہے۔ کیا آپ بتائیں گے کہ پاکستان نے یہ کردار کیسے اختیار کیا؟
کرنل عثمان: پاکستان اور اقوام متحدہ کے تعلق کو تقریباً 65 سال ہو چکے ہیں اور اس دوران پاکستانی فوج کے دو لاکھ سے زیادہ اہلکاروں نے دنیا بھر میں تقریباً 48 امن کارروائیوں میں خدمات انجام دی ہیں۔ ان میں 180 سے زیادہ اہلکاروں نے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے جان کی قربانی بھی دی۔ اس طرح پاکستان کا اقوام متحدہ کے ساتھ ایک مضبوط تعلق بن گیا ہے۔
پاکستان کی فوج پیشہ وارانہ اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے اور اس کے اہلکاروں کے کام کو سراہا جاتا ہے۔ یہ اہلکار جانتے ہیں کہ ان کا کام امن قائم کرنا ہے اور اس کے لیے وہ اپنی بہترین پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جن کے باعث پاکستان کے امن کار اچھی ساکھ کے حامل ہیں اور اسی کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔
یو این نیوز: آخری بات یہ کہ، جب آپ لوگ امن مشن میں کام کرنے کے بعد اپنے ملک اور اپنے یونٹ میں واپس جاتے ہیں تو دونوں طرح کے کام میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
کرنل عثمان: اقوام متحدہ کے لیے کام اور ذمہ داریاں پاکستان میں ہمارے عمومی کام سے مختلف ہوتی ہیں۔ یہاں ہمیں کثیرالملکی ماحول میں کام کرنا ہوتا ہے جہاں بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملتا ہے۔ اقوام متحدہ کی اقدار بہت بلند ہیں اور اس کے لیے کام کرنے والا فرد بہت اچھا اور نیا تجربہ لے کر واپس جاتا ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا، یہاں ہمیں سیلاب کے خطرے سے نمٹنا اور لوگوں کو تحفظ دینا ہے۔ یہ سب کچھ کرتے ہوئے ہم ہر وقت مستعد رہتے ہیں کیونکہ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ بہت سی زندگیوں کا دارومدار ہم پر ہے۔ ہم اقوام متحدہ کی اقدار کے ساتھ اسی احساس اور ذمہ داری کو لے کر چلتے ہیں۔