انٹرویو: عالمی غذائی تحفظ کو آبنائے ہرمز تجارتی رکاوٹوں سے خطرہ
خلیج فارس کا بحران بڑھنے کے ساتھ دنیا بھر میں وقت تیزی سے ان کسانوں کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے جو آبنائے ہرمز کے ذریعے آنے والی کھاد پر انحصار کرتے ہیں اور ان کروڑوں لوگوں کے لیے بھی خطرہ بڑھ رہا ہے جو ان فصلوں پر گزارا کرتے ہیں۔
عام حالات میں کھاد کی عالمی تجارت کا ایک تہائی حصہ، 35 فیصد خام تیل اور تقریباً پانچواں حصہ مائع قدرتی گیس ایران کے جنوب میں واقع اس سمندری راستے سے گزرتا ہے، لیکن اب یہاں سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے تاکہ بہت سے خطوں میں لوگوں کو بھوک کے بحران سے بچانے کے لیے کھاد اور اس سے متعلقہ خام مال کی محفوظ ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔ اس ٹاسک فورس کی قیادت خورخے موریرا دا سلوا کر رہے ہیں جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پراجیکٹ سروسز (یو این او پی ایس) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی ہیں۔
انہوں نے یو این نیوز کی ریم اباظہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت کا انتظار نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ سب کچھ ٹھیک نہ ہو جائے۔ کاشت کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ اگر اس بحران کا فوری حل نہ نکالا گیا تو یہ شدت اختیار کر لے گا جس کے غریب ممالک اور وہاں کے کمزور طبقات کے لیے سنگین اثرات ہوں گے۔
اگر آبنائے کو بند کرنے والے فریق کھاد اور دیگر خام مال گزرنے کی اجازت دے دیں تو اقوام متحدہ کی یہ ٹاسک فورس صرف سات روز میں اپنا ون سٹاپ پلیٹ فارم فعال کر سکتی ہے، تاکہ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ اور کمزور ممالک کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
وضاحت اور اختصار کے مقصد سے اس انٹرویو کو مدون کیا گیا ہے۔
خورخے موریرا دا سلوا: اس ٹاسک فورس کا مقصد ایک ایسا طریقہ کار وضع کرنا ہے جو خاص طور پر کھاد اور اس سے متعلق خام مال جیسا کہ یوریا، گندھک اور امونیا کی ترسیل ممکن بنائے تاکہ بڑے انسانی بحران کو روکا جا سکے۔ دنیا کی ایک تہائی کھاد آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خلیج فارس اس حوالے سے کتنی اہم ہے اور اس راستے میں خلل آنے سے پوری سپلائی چین کس قدر متاثر ہو رہی ہے۔
کچھ ممالک ان کھادوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان میں سے کئی پہلے ہی مختلف بحرانوں کا شکار ہیں جن میں سوڈان، صومالیہ، موزمبیق، کینیا اور سری لنکا نمایاں ہیں۔ یہ ممالک بڑی مقدار میں کھاد اسی خطے سے درآمد کرتے ہیں۔
یو این نیوز: دنیا کے کئی حصوں میں کاشت کا موسم جاری ہے اور کھاد کی عدم دستیابی خوراک کے تحفظ پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ آپ اپنا کام کس قدر جلد شروع کر سکتے ہیں؟
خورخے موریرا دا سلوا: جیسا کہ آپ نے کہا، رفتار نہایت اہم ہے۔ سفارت کاری اور قدرت ایک رفتار سے نہیں چلتے۔ میں جانتا ہوں کہ مشرق وسطیٰ میں اس جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اس وقت تک انتظار نہیں کر سکتے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔ کم از کم اتنا تو ہونا چاہیے کہ کاشت کے موسم کے لیے بروقت کچھ سہولت فراہم ہو جائے۔
یہاں میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ طریقہ کار جہاز رانی کی آزادی کو کمزور یا چیلنج کرنے کے لیے نہیں ہے۔ ٔجہاز رانی کی آزادی ایک ناقابل تردید اصول ہے جبکہ سیکرٹری جنرل اور میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسے مکمل طور پر بحال کیا جانا چاہیے۔
ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ جب تک یہ آزادی مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتی، تب تک کم از کم ایک محدود، عارضی اور مخصوص طریقہ کار قائم کیا جائے جو صرف کھاد اور متعلقہ خام مال کی ترسیل کے لیے ہو تاکہ کاشت کے موسم کی موجودگی میں کچھ مدد پہنچائی جا سکے۔
یو این نیوز: لیکن اس طریقہ کار کو عملی شکل دینے کے لیے آپ کو تنازع کے بڑے فریقین کی رضامندی درکار ہے اور یقیناً آپ سب کے ساتھ چوبیس گھنٹے رابطے میں ہوں گے۔ یہ بات چیت کیسے چل رہی ہے؟
خورخے موریرا دا سلوا: کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہمیں کوئی سیاسی معاہدہ مل جائے، یعنی رکن ممالک اس طریقہ کار پر متفق ہو جاتے ہیں تو عملی طور پر ہمیں کتنا وقت درکار ہو گا؟
اس کے لیے ہمیں صرف سات روز درکار ہوں گے۔ 'یو این او پی ایس' کی ٹیم، پہلے ہی اس ٹاسک فورس کے تناظر میں تمام عملی پہلوؤں کی نشاندہی کر چکی ہے۔
ون سٹاپ پلیٹ فارم آبنائے ہرمز سے گزرنے والی کھاد کی تمام کھیپوں کی منظوری دے گا اور خشکی پر بھی نگرانی کا نظام موجود ہو گا۔ ہم نے تمام ضروریات کا تعین کر لیا ہے اور میرا عزم ہے کہ جیسے ہی معاہدہ طے پائے گا تو سات روز کے اندر ہم اپنے لوگوں کو میدان میں اتار دیں گے تاکہ اس عمل کو ممکن بنایا جا سکے۔
یو این نیوز: آپ نے تصدیق، رجسٹریشن اور نگرانی کا ذکر بھی کیا۔ بظاہر یہ ایک بہت بڑی کارروائی ہو گی۔ کیا آپ کے پاس اسے جلد شروع کرنے کے لیے تمام وسائل موجود ہیں؟
خورخے موریرا دا سلوا: میں سمجھتا ہوں کہ مسئلہ وسائل کا نہیں ہو گا۔ اس کے لیے بہت زیادہ وسائل درکار نہیں ہوں گے، اصل ضرورت سیاسی عزم کی ہے۔ اس اقدام کے لیے سب سے اہم وسیلہ دراصل سیاسی ارادہ ہے۔
جیسے ہی ہمیں سیاسی رضامندی مل جائے گی تو مجھے یقین ہے کہ وسائل خود بخود فراہم ہو جائیں گے۔ کئی وفود پہلے ہی تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، لیکن میں نے ان سے کہا ہے کہ ذرا توقف کریں، پہلے معاہدہ ہو جائے پھر ہم ان کی مدد کا خیرمقدم کریں گے۔
یو این نیوز: جو لوگ ہمیں سن رہے ہیں انہیں آپ کیسے سمجھائیں گے کہ فوری طور پر اس اقدام کا آغاز کیوں ضروری ہے؟ اگر یہ جلد شروع نہ ہوا تو دنیا بھر کے کمزور لوگوں کے لیے اس کے کیا نتائج ہوں گے اور اسے چلانے کے لیے اقوام متحدہ ہی کیوں ضروری ہے؟
خورخے موریرا دا سلوا: اس اقدام کی اہمیت کے حوالے سے میں یہ کہوں گا کہ 'ایف اے او' اور عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) پہلے ہی بہت واضح انداز میں کھاد کی اہمیت بیان کر چکے ہیں زرعی پیداوار اور فصلوں کی بہتر نشوونما کے لیے یہ نہایت ضروری ہے۔
کھاد میں ایسے اجزا ہوتے ہیں جو پودوں کو تیزی سے بڑھنے اور بہتر پیداوار میں مدد دیتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ان ممالک کے لیے اہم ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے باعث حالات پہلے ہی نازک ہیں۔ اگر زرعی پیداوار متاثر ہو تو اس کا سیدھا مطلب غذائی عدم تحفظ، بھوک اور فاقہ کشی ہے۔