انسانی کہانیاں عالمی تناظر

انٹرویو: سمندری بارودی سرنگیں ناکارہ بنانا مشکل کیسے؟

صاف نیلے آسمان کے نیچے کھلے سمندر پر چلتے ہوئے ایک کارگو جہاز کا ہوائی منظر۔
© Unsplash/Angus Gray بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملوں سے بین الاقوامی تجارت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

انٹرویو: سمندری بارودی سرنگیں ناکارہ بنانا مشکل کیسے؟

انٹرویو: نتالی مینارڈ
امن اور سلامتی

سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنا نہایت مشکل اور خطرناک کام ہے۔ تاحال واضح نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز میں یہ سرنگیں بچھائی گئی ہیں یا نہیں اور اگر یہ فعال ہو گئیں تو ہر طرح کے جہازوں کو ڈبو سکتی ہیں۔

یہ بات بارودی سرنگوں کا خاتمہ کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایم اے ایس) کے ماہر پال ہیزلوپ نے اس مسئلے سے آگاہی کے عالمی دن کی مناسبت سے یو این نیوز کی نتھالی مینرڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتائی ہے۔ یہ دن ہر سال 4 اپریل کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد ہر طرح کی بارودی سرنگوں کے خطرے سے آگاہی پیدا کرنا اور ہر جگہ ان کا خاتمہ کرنا ہے۔ 

وضاحت و اختصار کے مقصد سے اس بات چیت کو مدون کیا گیا ہے۔ 

یو این نیوز: کیا آپ کے پاس آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں بچھائے جانے کے بارے میں کوئی اطلاعات ہیں؟

پال ہیزلوپ: ہمیں معلوم ہے کہ ایران کی بحریہ کے پاس اس تنازع سے پہلے سمندری بارودی سرنگوں کا بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ تاہم، ابھی تک کوئی مصدقہ اطلاع نہیں کہ آبنائے ہرمز میں کتنی یا کس طرح کی سرنگیں استعمال کی گئی ہیں، لیکن انہیں نصب کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ انہیں کسی بھی چھوٹی کشتی، ماہی گیری کی کشتی یا سرنگیں بچھانے والے مخصوص بحری جہاز کے ذریعے لے جایا جا سکتا ہے۔

بارودی سرنگوں کا خاتمہ کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ’یو این ایم اے ایس‘ کے ماہر پال ہیزلوپ۔
UN News/Daniel Johnson

یو این نیوز: آبنائے ہرمز میں کون سی اقسام کی بارودی سرنگیں استعمال کی جا سکتی ہیں؟

پال ہیزلوپ: اگر آپ زمینی بارودی سرنگوں کو دیکھیں تو وہ عموماً زمین کی سطح پر یا اس کے نیچے رکھی جاتی ہیں اور وہیں رہتی ہیں جب تک کوئی قدرتی عمل انہیں ہلا نہ دے۔ لیکن سمندری سرنگیں تین طرح کی ہوتی ہیں جن میں سطح آب پر تیرتی، پانی کے اندر معلق یا سمندر کی تہہ میں نصب بارودی سرنگیں شامل ہیں۔ 

اگر یہ سرنگیں سطح سمندری پر ہوں تو پانی لہروں کے ساتھ حرکت کر سکتی ہیں۔ انہیں رسی کے ذریعے ایک جگہ باندھ کر بھی رکھا جا سکتا ہے۔ یہ پلاسٹک یا دھات کی بنی ہو سکتی ہیں اور ان کے پھٹنے کے طریقے مختلف ہوتے ہیں یعنی یہ کسی جہاز کے ٹکرانے سے، مقناطیسی اثر سے، ریموٹ کنٹرول کے ذریعے یا ٹائم بم کی طرح مقررہ وقت پر پھٹ سکتی ہیں۔ 

یو این نیوز: سمندری بارودی سرنگوں کو صاف کرنا زیادہ مشکل کیوں ہوتا ہے؟

پال ہیزلوپ: زمینی بارودی سرنگوں کو صاف کرنا بھی مشکل ہوتا ہے لیکن سمندری سرنگیں اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوتی ہیں۔ اس میں آپ کو تین جہتوں میں کام کرنا ہوتا ہے جبکہ چوتھی جہت وقت ہے۔ وقت کے ساتھ یہ سرنگیں اپنی جگہ بدل سکتی ہیں۔ اگر کسی علاقے کو صاف کر دیا جائے تو سمندری لہریں اسے دوبارہ آلودہ کر سکتی ہیں۔

بعض سرنگیں خود بھی حرکت کرتی ہیں، اس لیے یہ مسلسل بدلتے ہوئے ماحول میں کام کرنے کا معاملہ ہے۔

یو این نیوز: انہیں کیسے تلاش کیا جاتا ہے؟

پال ہیزلوپ: اگر یہ دھات کی بنی ہوں تو مقناطیسی میٹر کے ذریعے ان کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جدید سونار اور ریڈار ٹیکنالوجی بھی زیر آب اشیا کو تلاش کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن پانی میں درجہ حرارت کی مختلف تہیں بھی رکاوٹ بن جاتی ہیں کیونکہ وہ آواز کی لہروں کو موڑ دیتی ہیں جس سے سونار کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

اسی لیے سمندری بارودی سرنگوں کو تلاش اور صاف کرنا نہایت مشکل اور خطرناک ہے۔

ہرمز اسٹریٹ کا سیٹلائٹ منظر ، جو خلیج عمان کو خلیج فارس سے جوڑتا ہے ، جو ایران کو عمان ، متحدہ عرب امارات اور قطر سے الگ کرتا ہے۔
© NASA

یو این نیوز: کون سے ممالک کے پاس سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے کی صلاحیت موجود ہے؟

پال ہیزلوپ: زیادہ تر بحری افواج کے پاس کسی نہ کسی حد تک یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت انہیں صاف کرنے والے روایتی بحری جہازوں سے ہٹ کر نئی ٹیکنالوجی کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے جن میں ڈرون اور زیر آب روبوٹ شامل ہیں۔ 

یو این نیوز: اگر کسی جگہ بارودی سرنگ کی موجودگی ثابت ہو جائے تو بحری آمدورفت کیسے بحال کی جا سکتی ہے؟

پال ہیزلوپ: یہ کچھ ایسا ہی ہو گا جیسے کسی امن مشن میں روزانہ سڑکوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے کہ کہیں رات کو ان پر بارودی سرنگیں تو نہیں بچھائی گئیں۔

اگر امن کے لیے کوئی معاہدہ ہو جائے تو تب بھی کچھ عرصہ تک بحری جہازوں کو قافلوں کی صورت میں گزارا جائے گا اور ان کے آگے بچھی بارودی سرنگیں صاف کی جائیں گی۔ یہ قافلے ایک مخصوص اور صاف کیے گئے راستے پر چلیں گے جو چند کلومیٹر چوڑا ہو گا۔ پورے آبنائے ہرمز کو روزانہ مکمل طور پر صاف کرنا ممکن نہیں ہو گا اور سمندری حالات کے باعث کچھ علاقے دوبارہ بھی خطرناک ہو سکتے ہیں۔