انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان افغانستان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی قبول کریں، یو این اہلکار

افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (یوناما) کی قائم مقام سربراہ جارجیٹ گیگنن (فائل فوٹو)۔
Peacekeeping-UNAMA افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (یوناما) کی قائم مقام سربراہ جارجیٹ گیگنن (فائل فوٹو)۔

پاکستان افغانستان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی قبول کریں، یو این اہلکار

انٹرویو: لوڈمیلا بلاگونروا (یو این نیوز روسی)
امن اور سلامتی

افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (یوناما) کے دفتر کی سربراہ جارجیٹ گیگنن نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران سے بڑی تعداد میں مہاجرین کی واپسی ملک کے لیے بہت سے مسائل لائی ہے جنہیں پاک۔افغان حالیہ کشیدگی نے دوچند کر دیا ہے اور ان پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی وسائل کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یو این نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا ہے کہ افغانستان کو بہت بڑا انسانی بحران درپیش ہے جسے مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے عالمی برادری کو فعال امدادی کردار ادا کرنا ہو گا۔ طاقت کا استعمال تنازعات کا حل نہیں بلکہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے سلجھانا ہی بہتری کا راستہ ہے۔ 

اس بات چیت میں افغانستان کی صورتحال پر متعدد سوال و جواب ہوئے جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ 

یو این نیوز: ایران سے متعلق موجودہ صورتحال اور آنے والے مہینوں میں مزید افغان شہریوں کی ایران سے افغانستان واپسی کے امکان کو دیکھتے ہوئے یوناما ان لوگوں اور ان کی میزبانی کرنے والوں کی مدد کے لیے کس طرح تیاری کر رہا ہے؟

جارجیٹ گیگنن: مشن اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے ساتھ مل کر کئی طرح کے امدادی اقدامات میں مصروف ہے تاکہ واپس آنے والے افغان جب اپنے گھروں اور علاقوں میں آباد ہوں تو ان کی مدد کی جا سکے۔

اس ضمن میں پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' اور عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم)کی کاوشیں قابل ذکر ہیں جو ناصرف ایران کے ساتھ افغان سرحدی علاقوں بلکہ ملک کے اندر ایسی جگہوں پر بھی امدادی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں جہاں یہ لوگ آباد ہوں گے۔

یہ کام آسان نہیں ہو گا کیونکہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پاکستان اور ایران سے 40 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین واپس افغانستان آ چکے ہیں۔ اسی لیے افغانستان کے موجودہ حکام اور عالمی برادری مل کر کوشش کر رہے ہیں کہ متاثرہ خاندانوں اور ان کی میزبان آبادیوں کو ضروری مدد فراہم کی جا سکے۔

یو این نیوز: اس وقت افغانستان اور پاکستان کے مابین سرحد پار جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال یوناما کی سرگرمیوں کو کس طرح متاثر کر رہی ہے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کون سے سفارتی اور امدادی اقدامات ضروری ہیں؟

جارجیٹ گیگنن: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور یوناما نے فریقین سے کشیدگی کو کم کرنے، مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔

ان جھڑپوں کے باعث افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں اور سرحد پار سے آنے والی انسانی امداد کی فراہمی میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد اکتوبر سے بند ہے جس کے باعث دونوں جانب کی آبادیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی لیے ہم کشیدگی کم کرنے، مذاکرات شروع کرنے اور فریقین پر رکن ممالک کی ثالثی کی پیشکش کو قبول کرنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔

یو این نیوز: اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ انسانی امداد کے لیے امدادی وسائل کم پڑ رہے ہیں۔ یوناما اور دیگر اداروں کو اس حوالے سے کہاں کمی درپیش ہے اور آپ عطیہ دہندگان کو کیا پیغام دیں گی؟

جارجیٹ گیگنن: امدادی وسائل کی شدید قلت ہے۔ امدادی اداروں نے رواں سال تقریباً 1.7 ارب ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کر رکھی ہے تاکہ افغانستان کی کم از کم نصف آبادی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

اس وقت خوراک، رہائش (پناہ) اور بالخصوص خواتین اور بچوں کے لیے طبی سہولیات سب سے بڑی ضرورتیں ہیں۔ ہم نے عطیہ دہندگان کو بارہا بتایا ہے کہ افغانستان کو مزید مسائل سے بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر مالی معاونت ناگزیر ہے۔

یو این نیوز: محدود وسائل کی صورت میں اقوام متحدہ امداد کو کس طرح ترجیح دیتا ہے؟

جارجیٹ گیگنن: سب سے پہلے سب سے زیادہ کمزور اور ضرورت مند افراد کو امداد فراہم کی جاتی ہے اور اس کے بعد مرحلہ وار دیگر افراد اور آبادیوں تک مدد پہنچائی جاتی ہے۔

یو این نیوز: افغانستان میں خواتین اور لڑکیاں تعلیم، روزگار اور سماجی زندگی سمیت کئی شعبوں میں کڑی پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ یوناما ان کے حقوق کو تحفظ دینے کے لیے کیا اقدامات کر رہا ہے اور موجودہ سیاسی حالات میں کون سا اثرورسوخ باقی ہے؟

جارجیٹ گیگنن: یوناما، افغان عوام، اقوام متحدہ کے ادارے اور رکن ممالک زور دے رہے ہیں کہ خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ان پابندیوں کے معاشی، سماجی اور سیاسی نتائج انتہائی سنگین ہیں۔ اس سے نہ صرف خواتین اور لڑکیوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ پورے معاشرے اور ملک کے مستقبل پر بھی منفی اثر مرتب ہو رہا ہے۔

ہم یہ بات بھی واضح کرتے ہیں کہ یہی مسئلہ افغانستان کی بین الاقوامی برادری میں دوبارہ شمولیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سلامتی کونسل نے بھی واضح کیا ہے کہ افغانستان کو عالمی نظام میں دوبارہ شامل ہونے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ان پابندیوں کا خاتمہ کرنا ہو گا۔