عراق خلفشار سے اب جمہوریت اور ترقی پر گامزن، یو این مشن چیف
دو دہائیوں تک جنگوں، سیاسی شورش اور دہشت گردی کے خلاف عراق کو مدد دینے کے بعد اقوام متحدہ کا مشن (یونامی) ملک سے واپس جا رہا ہے۔ مشن کے سربراہ محمد الحسن نے کہا ہے کہ یہ واپسی ایسے وقت ہو رہی ہے جب عراق عدم استحکام سے پائیداری اور ترقی کی جانب قدم بڑھا چکا ہے۔
انہوں نے یو این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جب 'یونامی' کا آغاز ہوا تو عراق کے حالات بہت مختلف تھے۔ اگست 2003 میں مشن کے آغاز سے چند ہی روز بعد بغداد میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر پر حملہ ہوا جس میں مشن کے سربراہ سمیت 22 اہلکار ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ 23 سال کے بعد، عراقی عوام کی قربانیوں اور عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی مدد سے ملک اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے جہاں وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
ملک میں حالیہ سیاسی پیش رفت استحکام کا ثبوت دیتی ہے۔ نومبر میں مشن کی معاونت سے ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو اب تک کے سب سے قابل اعتماد انتخابات میں شمار کیا گیا جن میں 56 فیصد ٹرن آؤٹ سے عوام کی بھرپور شمولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
محمد الحسن نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں یونامی نے متعدد شعبوں میں اہم کردار ادا کیا جن میں حکومت کو سیاسی استحکام سے متعلق مشاورت کی فراہمی، جامع قومی مکالمے کا فروغ اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں مقامی سطح پر مفاہمتی کوششوں میں تعاون بھی شامل ہے۔
سلامتی کی مستحکم صورتحال
انہوں نے کہا کہ سلامتی کی صورتحال میں غیرمعمولی بہتری یونامی کی سب سے بڑی کامیابیوں میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی مدد کے بغیر عراق کے لیے داعش کو شکست دینا ممکن نہ ہوتا، تاہم اصل کامیابی عراقی عوام کی جرات اور استقامت کا نتیجہ تھی۔
ملک اب بھی تنازعات کے طویل المدتی اثرات سے نبرد آزما ہے۔ تقریباً 10 لاکھ عراقی اب بھی اندرون ملک بے گھر ہیں، جن میں ایک لاکھ سے زیادہ یزیدی شامل ہیں۔ بہت سے لوگ تاحال اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے۔ بالخصوص سنجار جیسے یزیدی اکثریتی علاقوں میں یہ صورتحال نمایاں ہے جہاں بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے اور سلامتی کے مسائل حل طلب ہیں۔ تاہم، اب امید کی جا سکتی ہے کہ جلد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔
خواتین کے حقوق کا فروغ
محمد الحسن نے بتایا کہ خواتین کے حقوق کا فروغ 'یونامی' کی ذمہ داریوں کا اہم حصہ رہا ہے اور عراق کو مشن کے بعد بھی یہ کام جاری رکھنا ہو گا۔ اگرچہ آج عراق میں خواتین کے حقوق کی صورتحال پہلے سے بہتر ہے لیکن بدقسمتی سے ان کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ چاہتا ہے کہ خواتین کے حقوق کے علمبردار خود عراقی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا فروغ مشن کی اہم ذمہ داری رہی ہے جس میں عدالتی و قانونی اصلاحات، کمزور طبقات کا تحفظ اور خواتین و اقلیتوں کے حقوق یقینی بنانے میں مدد دینا بھی شامل ہے۔ یہی ذمہ داریاں دسمبر 2025 میں مشن کے اختتام تک یونامی کے کام کی سمت متعین کرتی رہیں۔
اب جبکہ عراق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اپنی نشست سنبھالنے کی تیاری کر رہا ہے تو اسے خواتین، نوجوانوں اور اقلیتوں کا مکمل تحفظ یقینی بنانا اور آزادی اظہار کو تحفظ دینا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ عراق میں اقوام متحدہ کا سیاسی مشن ختم ہو رہا ہے لیکن ملک میں ادارے کی مجموعی موجودگی برقرار رہے گی۔ یونیسف، ڈبلیو ایچ او، آئی او ایم، یو این ڈی پی اور دیگر تمام ادارے عراق میں کام جاری رکھیں گے۔
کامیابی کی داستان
محمد الحسن نے عراق کو کامیابی کی داستان اور ایک منفرد ملک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسے آگے بڑھنے کا موقع دے۔ عراق کو خود کو ثابت کرنے کا موقع دیا جائے کہ وہ اس آزادی کا اہل ہے جس کی عراقی عوام نے بے حد بھاری قیمت ادا کی ہے۔
تیل کے ذخائر اور بڑی معیشت کے حامل عراق کو امداد کی نہیں بلکہ عالمی برادری کی حمایت اور دوستی کی ضرورت ہے۔ عراق کو خیرات نہیں چاہیے بلکہ اسے بین الاقوامی تعاون اور شراکت داری درکار ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 'یونامی' کی واپسی عراق اور اقوام متحدہ کے تعلقات کا خاتمہ نہیں ہے اور انہیں پورا یقین ہے کہ عراقی عوام نے اپنی تاریخ کا ایک نیا اور خوبصورت صفحہ پلٹ لیا ہے۔