امن نوجوانوں کا نصب العین ہونا چاہیے، میجیل آنحیل موراتینو
'تہذیبوں کے اتحاد' کا 11واں عالمی فورم سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جاری ہے جہاں دنیا بھر کے نوجوانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ امن کو عالمی ترجیح بنائیں اور 21ویں صدی میں جنگوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیں۔
اقوام متحدہ کے قائم کردہ اس اتحاد کے اعلیٰ سطحی نمائندے میجیل آنحیل موراتینو نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل کا دارومدار ایک ایسی نئی نسل پر ہے جو تقسیم کے بجائے مکالمے، اور نفرت کے بجائے انسانیت کا انتخاب کرے۔ یہ اتحاد بین الثقافتی مکالمے کے لیے اقوام متحدہ کا ایک نمایاں پلیٹ فارم ہے جو نفرتوں کے خاتمے اور تنوع کو ترقی کی قوت بننے میں مدد دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا کثیر القطبی نظام کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں عرب ممالک، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کی ابھرتی ہوئی طاقتیں اپنی آواز سننے اور تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور یہ اتحاد تمام فریقین کو ایک میز پر لا سکتا ہے۔
تاہم، انہوں نے اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا کہ دنیا کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے اور یہ پیچیدگی ایک ایسا مسئلہ ہے جو سننے، مکالمے اور باہمی فہم کے لیے مزید مضبوط عزم کا تقاضا کرتا ہے۔
اخلاقیات کا تحفظ
موراتینو نے کہا کہ سب سے اہم مسائل میں سے ایک مصنوعی ذہانت ہے جو ترقی میں مدد دے سکتی ہے مگر اس کے ساتھ کئی سنگین مسائل بھی وابستہ ہیں۔ مشین کو نہ مذہب کی فکر ہوتی ہے اور نہ اخلاقیات کی مگر انسان کو یہ سب عزیز ہیں۔ اسی لیے مصنوعی ذہانت کو انسان پر مرتکز ہونا چاہیے اور اس کی رہنمائی انسانی اقدار اور انسانی فیصلے کریں۔
انہوں نے اس خطرے سے بھی خبردار کیا کہ کہیں انسان اپنی آزادی اور ذمہ داری مشینوں کے حوالے نہ کر دے۔ اگر انسانیت اپنا اخلاقی قطب نما کھو دے تو ٹیکنالوجی خود راستہ درست نہیں کرے گی۔ اسی لیے اتحاد کا ایک اہم مقصد اقدار اور اخلاقیات کا تحفظ ہے۔
نفرت، اخراج اور تشدد
انہوں نے اظہار نفرت بالخصوص بڑھتی ہوئی آن لائن نفرت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا آغاز الفاظ سے ہوتا ہے مگر انجام کار یہ اخراج، تشدد اور تنازعات میں بدل جاتی ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ اتحاد ایسے پروگراموں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جو متبادل بیانیے کو فروغ دیں اور باہمی سمجھ بوجھ کو بڑھائیں اور ان کوششوں میں نوجوانوں کا کردار مرکزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان اپنی زندگی کا بڑا حصہ ورچوئل دنیا میں گزارتے ہیں جس کے باعث انہیں حقیقی انسانی ربط سے دوری کا خطرہ لاحق ہے۔ نوجوانوں کو حقیقت کی دنیا سے دوبارہ جوڑنا ہو گا۔
سلامتی سے پہلے امن
موراتینو کا کہنا تھا کہ دنیا سلامتی کے تصور میں اس قدر الجھ چکی ہے کہ اس نے امن کو نظرانداز کر دیا ہے۔ ہر کوئی امن کے بجائے سلامتی کے بارے میں زیادہ فکر مند ہے لیکن امن کے بغیر سلامتی نہیں مل سکتی۔
اگر انسانیت خود کو ہی تباہ کرتی رہے تو کرہ ارض کو بچانے کی تمام کوششیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے غزہ، یوکرین اور سوڈان میں جاری تنازعات کے بھاری انسانی نقصان کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ دنیا کو دوبارہ اس بات پر توجہ دینی ہوگی کہ انسانیت کو بچانا ہی سب سے اہم ہے۔