انسانی کہانیاں عالمی تناظر

موسمیاتی بحران: کانفرنسوں میں ہونے والے اعلانات پر عملدرآمد کی رفتار سست، زنیرا

سبز کڑھائی والی شال میں ایک نوجوان عورت شہری پلازہ میں ایک بڑے، پھٹے ہوئے گلوب مجسمے کے سامنے کھڑی ہے۔
UNICEF Pakistan زنیرا قیوم یونیسف پاکستان کی یوتھ ایڈووکیٹ ہیں اور وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں سالانہ اجلاس کے دوران موسمیاتی بحران پر ہونے والی کانفرنس میں مندوب کے طور پر شریک ہوئیں۔

موسمیاتی بحران: کانفرنسوں میں ہونے والے اعلانات پر عملدرآمد کی رفتار سست، زنیرا

انٹرویو: حریم احمد
موسم اور ماحول

پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرتی آفات بالخصوص لڑکیوں کے لیے حصول تعلیم کو مزید مشکل بنا رہی ہیں۔ 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں ملک کا ایک تہائی حصہ زیرآب آیا جس سے 27 ہزار سکولوں کو نقصان پہنچا اور 20 لاکھ سے زیادہ بچے تعلیم سے محروم ہو گئے تھے۔

اس بحران سے متاثرہ بچوں کے لیے کام کرنے والوں میں زنیرہ قیوم بھی شامل ہیں جو صرف 15 سال کی عمر میں موسمیاتی اقدامات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے یونیسف کی یوتھ ایڈووکیٹ مقرر ہوئیں۔ زنیرہ کا تعلق بلوچستان کے ضلع حب سے ہے جو پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ 2023 میں انہوں نے یونیسیف کا 'پالیسی ریسرچ چیلنج' بھی جیتا تھا۔ اس کے لیے اپنے تحقیقاتی مطالعے میں انہوں ںے یہ جائزہ لیا کہ کس طرح موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والے سیلاب اور گرمی کی شدید لہریں لڑکیوں کی تعلیم کو متاثر کر رہی ہیں اور صنفی عدم مساوات کو مزید شدید بنا رہی ہیں۔

بعدازاں زنیرہ نے آذربائیجان میں منعقدہ 'کاپ29' میں بھی شرکت کی جہاں انہوں نے موسمیاتی اقدام کی فوری ضرورت کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بچوں کی بامعنی شمولیت پر زور دیا۔ یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ سازی میں شامل ہونا چاہیے۔

اس بات چیت میں یو این نیوز اردو نے زنیرہ قیوم سے ان کی تحقیق، صنفی اور موسمیاتی انصاف کے لیے ان کی وکالت اور برازیل میں 'کاپ30' سے قبل ان کی توقعات پر بات کی۔

اختصار اور وضاحت کے مقصد سے اس انٹرویو کو مدون کیا گیا ہے۔

ایک نوجوان خاتون کانفرنس کے پینل میں تقریر کر رہی ہے، مائیکروفون پکڑے ہوئے ہے، اس کے ساتھ ایک اور پینلسٹ بیٹھا ہے۔
UNICEF Pakistan

یو این نیوز: کیا آپ ہمیں اس تحقیق اور کام کے بارے میں بتا سکتی ہیں جو آپ نے موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر کیا ہے؟

زنیرہ قیوم: 2022 میں یونیسیف نے پالیسی ریسرچ چیلنج (پی آر سی) کا اعلان کیا جس میں میری تحقیق کا محور یہ تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کس طرح لڑکیوں کی تعلیم کو متاثر کر رہی ہے۔ میں نے بلوچستان کے شہر حب کے ایک گاؤں ساکران میں تحقیق کی جو سیلاب سے شدید متاثر ہوا تھا۔ اس دوران میں نے معیاری اور مقداری دونوں پہلوؤں پر تحقیق کی اور چھ ماہ کے بعد اپنے نتائج یونیسف کو جمع کروائے۔

یو این نیوز: پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑکیوں کی تعلیم پر کیا اثر پڑتا ہے؟

زنیرہ قیوم: لڑکیاں اس لیے متاثر ہو رہی ہیں کہ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے شدید خطرات سے دوچار ہے اور ملک میں صنفی عدم مساوات بھی عام ہے۔ مثال کے طور پر میں ایک خاندان سے ملی جس میں دو بہنیں تھیں جن کی عمریں 14 اور 16 سال تھیں۔ وہ کبھی سکول نہیں گئیں۔ جب ان کی ایک رشتہ دار کو کوئٹہ میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی گئی تو ان کے والدین نے انہیں بھی سکول جانے کی اجازت دے دی۔ لیکن جب ان بہنوں نے سکول میں داخلہ لے لیا تو صرف دو ماہ بعد ہی ان کا سکول سیلاب میں بہہ گیا۔ جب نئے سکول تعمیر کیے جاتے ہیں وہ دوبارہ منہدم ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ موسمیاتی لحاظ سے مضبوط یا سیلاب سے محفوظ نہیں ہوتے۔ اسی لیے لڑکیوں کی تعلیم میں بار بار خلل پڑتا ہے۔

یو این نیوز: ایک نوجوان موسمیاتی نمائندے کے طور پر آپ کے لیے موسمیاتی اقدام کا کیا مطلب ہے؟

زنیرہ قیوم: میری رائے میں موسمیاتی اقدام بے حد اہم ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی ایک فوری اور سنگین مسئلہ ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جس کا ہمیں مستقبل میں سامنا کرنا ہے، یہ ابھی ہماری روزمرہ زندگیوں میں ہو رہا ہے۔ چاہے وہ سیلاب ہوں یا شدید گرمی کی لہریں، یہ واقعات ہمیں سکول، گھر اور دیگر تمام شعبوں میں متاثر کرتے ہیں۔ اسی لیے صرف وعدوں سے کام نہیں چلے گا بلکہ اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

ایک نوجوان خاتون وکیل پاکستان میں UNICEF ایک پروگرام کے دوران ایک پوڈیم پر خطاب کر رہی ہے، جو موسمیاتی کارروائی کے بارے میں سامعین سے خطاب کر رہی ہے۔
UNICEF Pakistan

یو این نیوز: برازیل میں 'کاپ30' سے آپ کی کیا توقعات ہیں؟

زنیرہ قیوم: میں نے 'کاپ29' میں پہلی مرتبہ یہ دیکھا کہ اگرچہ پالیسیاں اور اعلانات کیے جاتے ہیں لیکن ان پر عمل بہت کم ہوتا ہے۔ پائیدار ترقی کے اہداف کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے خاص طور پر معیاری تعلیم کے شعبے میں پیش رفت کافی سست ہے۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو اقدامات کیے جاتے ہیں وہ خود موسمیاتی اہداف سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور 'کاپ30' کے لیے جو سڑک تعمیر کی جا رہی ہے اس کے لیے ایمازون کے جنگلات کاٹنے کی اطلاعات ہیں جو ماحول کے تحفظ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ مجھے امید ہے کہ 'کاپ30' اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھے گا اور محض وعدوں کے بجائے حقیقی اور مؤثر کارروائی کرے گا کیونکہ موسمیاتی بحران کوئی تصوراتی معاملہ نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں پر براہِ رأست اثرانداز ہونے والی حقیقت ہے۔ اعدادوشمار پر بات کرنے سے پہلے میری خواہش ہے کہ فیصلہ ساز اس بات کا ادراک کریں کہ ہر عدد ایک درہم برہم اور متاثرہ زندگی کی نمائندگی کرتا ہے۔

یو این نیوز: موسمیاتی فیصلہ سازی میں نوجوانوں کی شمولیت اہم کیوں ہے؟

زنیرہ قیوم: اس میں بچوں اور نوجوانوں کی شمولیت انتہائی ضروری ہے۔ ہم بچے کئی مواقع پر اس مسئلے کے باعث بڑوں سے بھی زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سیلاب کے بعد پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہیں کیونکہ ان کی قوتِ مدافعت نسبتاً کمزور ہوتی ہے۔ 'کاپ29' کے موقع پر میں نے 18 سال سے کم عمر کے بہت کم بچوں کو دیکھا بلکہ وہاں صرف میں اور ایک اور لڑکی موجود تھیں۔ یہ صورتحال تبدیل ہونی چاہیے۔ سیاستدانوں اور فیصلہ سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے بغیر ہمارے لیے کوئی فیصلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری آوازیں اہم ہیں اور بچوں کی بامعنی شمولیت ناگزیر ہے۔