انٹرویو: دنیا افغان لڑکیوں کے لیے تعلیم کے مواقع پیدا کرے، فاطمہ امیری
افغانستان میں طالبان حکام کی جانب سے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی کے نفاذ کو چار سال ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں طالبات تعلیم تک رسائی سے محروم ہیں اور ان کے مستقبل کے بارے میں خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
فاطمہ امیری جیسی لڑکیوں کو پابندی سے پہلے بھی ایسے انتہا پسندوں کی طرف سے خطرہ لاحق تھا جو انہیں سکول جانے سے روکتے تھے۔ کابل میں فاطمہ امیری 17 سال کی تھیں جب 2022 میں ایک خودکش حملہ آور نے ان کے کلاس روم پر حملہ کیا۔ اس حملے میں ان کی 50 سے زیادہ ہم جماعتوں کی ہلاکتیں ہوئیں اور وہ شدید زخموں کے ساتھ زندہ بچ گئیں۔ یہ ایسے زخم تھے جنہوں نے ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
آج ملک سے باہر رہتے ہوئے فاطمہ امیری افغان لڑکیوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے سرگرم ہیں جو بے تابی سے اپنے سکول دوبارہ کھلنے کا انتظار کر رہی ہیں۔ فاطمہ امیری کا کہنا ہے کہ تعلیم ایک بنیادی حق ہے جو ان لڑکیوں سے چھین لیا گیا ہے۔
انہوں نے یو این نیوز کو بتایا کہ افغان لڑکیاں روتی ہیں اور انہیں متواتر ایسے پیغامات بھیجتی ہیں جن میں حصول تعلیم کے حق سے کام لینے کی خواہش کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ان کے پاس صرف تعلیم تھی اور اب وہ اس بنیادی حق سے بھی محروم ہیں۔
تعلیم کی وسیع تر حمایت
'یو این ویمن' کے مطابق، افغانستان میں 90 فیصد سے زیادہ لوگ لڑکیوں کی ثانوی تعلیم کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود 22 لاکھ سے زیادہ افغان لڑکیاں سکول جانے سے محروم ہیں اور تقریباً 70 لاکھ بچے سکول نہیں جا رہے۔
افغانستان میں حالیہ زلزلے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جبکہ خواتین امدادی کارکنوں پر عائد پابندی نے انسانی امداد کی فراہمی میں شدید رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں اور ان کے شراکت داروں نے ان پابندیوں کی سخت مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان لڑکیوں کی تعلیم کے حق کی حمایت میں متحد ہو۔
فاطمہ امیری نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے روبرو اپنا بیان دیا اور یو این نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس مسئلے پر تفصیلی بات چیت کی جسے اختصار اور وضاحت کے مقصد سے مدون کیا گیا ہے۔
فاطمہ امیری: میں افغانستان کی ان بے شمار لڑکیوں اور خواتین کی صرف ایک مثال ہوں جنہیں انصاف سے محروم رکھا گیا ہے۔ مجھے وہ تمام درد محسوس ہوتا ہے جو میرے ملک کی لڑکیاں روزانہ سہتی ہیں۔ میرے پاس صرف ایک طاقت ہے: ان کی آواز بننا، دنیا سے بات کرنا، اور ان کا پیغام دوسروں تک پہنچانا تاکہ ان کی مدد ہو سکے۔
یو این نیوز: طالبان کی واپسی کے بعد لڑکیوں اور خواتین کے حقوق کو پہنچنے والے نقصان کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔ آپ نے یہ سب خود جھیلا ہے۔ کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ افغانستان میں آپ کی دوستوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
فاطمہ امیری: افغانستان میں لوگوں کو ان مسائل کا سامنا کیے ہوئے چار سال ہو چکے ہیں۔ سکول بند ہیں، یونیورسٹیاں بند ہیں اور خواتین کے لیے حالات بہت مشکل ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم صرف باتیں کر رہے ہیں لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ چار سال گزر گئے ہیں اور افغانستان میں روزمرہ زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آج بھی خواتین اکیلے باہر نہیں جا سکتیں۔ اس لیے صرف بات کرنا کافی نہیں ہے۔ ہم بہت کچھ کہہ چکے ہیں اب کچھ کرنے کا وقت ہے۔ ہمیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
یو این نیوز: یہی وجہ ہے کہ آپ یہاں جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں آئی ہیں جہاں دنیا بھر کے ممالک نے آپ کی پراثر داستان سنی۔ آپ نے کہا کہ آپ سبھی کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ لیکن آپ نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ سکول پر حملے میں آپ کی ایک آنکھ زخمی ہو گئی تھی اور آپ نے شدید خوف کا سامنا کیا۔
فاطمہ امیری: یہ سچ ہے کہ میں اپنی ایک آنکھ اور ایک کان کھو چکی ہوں۔ لیکن بہت سی اور لڑکیاں بھی ہیں جنہوں نے اپنی بینائی کھو دی۔ جب آپ پڑھ نہیں سکتے اور جب آپ کو اپنے بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوتے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اندھیرے میں ہیں۔ جب آپ سکول اور تعلیم سے محروم ہو کر سارا دن گھر میں رہتے ہیں تو آپ کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے۔
میں افغانستان میں بہت سی لڑکیوں سے رابطے میں ہوں۔ ان میں سے بعض کہتی ہیں کہ ہم تعلیم حاصل کر رہے تھے اور یہی ہماری امید تھی کہ ہم اپنا مستقبل خود تشکیل دیں گے اور اپنے ملک کو اپنے لیے ایک بہتر جگہ بنا سکیں گے۔ لیکن اب ہمیں اپنے بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ لڑکیاں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، وہ خود کو کھو چکی ہیں، وہ مدد کی فریاد کر رہی ہیں۔ میں اپنی کہانی سنا رہی ہوں تاکہ لوگ اس صورتحال کو سمجھ سکیں۔
یو این نیوز: جب حملہ ہوا تو آپ کمپیوٹر سائنس کی تعلیم کے لیے یونیورسٹی کے داخلہ امتحان کی تیاری کر رہی تھیں۔ آپ نے شدید زخموں کے باوجود امتحان دیا۔
فاطمہ امیری: میں نے حملے میں زخمی ہونے کے بعد بھی امتحان دیا حالانکہ میری ایک آنکھ اور ایک کان متاثر ہو چکے تھے اور اس حالت میں امتحان دینا واقعی بہت مشکل تھا۔ میں ہسپتال میں تھی لیکن پھر بھی میں نے وہ امتحان کامیابی سے پاس کیا اور یونیورسٹی میں داخلے کی اہل ہو گئی۔ لیکن حکام نے یونیورسٹی بند کر دی اور میں اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکی۔ اس لیے میں آج بھی اپنے خواب کے لیے اور تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کر رہی ہوں۔
یو این نیوز: آپ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 47 رکن ممالک سے کیا توقع رکھتی ہیں؟ وہ کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟
فاطمہ امیری: انہیں ہمارے لیے مواقع بنانے چاہئیں۔ اگر آپ میرا سکول دوبارہ نہیں کھول سکتے تو کم از کم مجھے ایک موقع یا سکالرشپ دے دیں۔ یہ ممالک جو یہاں موجود ہیں وہ آن لائن تعلیم کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں تاکہ لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں یا روزگار حاصل کر سکیں۔ ہمیں اختیارات کی ضرورت ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو افغانستان کی لڑکیاں میرے ذریعے دنیا تک پہنچانا چاہتی ہیں۔
یو این نیوز: آپ نے بات کی ہے کہ کس طرح لڑکیاں چھپ کر، اندھیرے میں، آن لائن، سرگوشیوں کے ذریعے اور ان کتابوں کے ذریعے سیکھتی رہتی ہیں جو قیمتی خزانے کی مانند ہیں۔ آپ ہمیں اس بارے میں اور کیا بتا سکتی ہیں؟
فاطمہ امیری: جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، اس وقت حالات انتہائی مشکل ہیں۔ لیکن افغانستان میں لڑکیاں چین سے نہیں بیٹھیں گی۔ وہ روزانہ اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میں ان میں بہت سی لڑکیوں کے ساتھ رابطے میں ہوں اور انہیں انگریزی سکھا رہی ہوں۔ وہ بے حد پرعزم ہیں۔ یہ سچ ہے کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ملا اور ان کے پاس انٹرنیٹ کنیکشن بھی بہتر نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ مطالعہ کرنے اور کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ان سب کو آن لائن کورس، یونیورسٹیوں یا سکولوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ ایسے مواقع بہت محدود ہیں۔ لیکن وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں۔ وہ گھر پر ان کتابوں سے پڑھ رہی ہیں جو پہلے سے ان کے پاس موجود تھیں۔ وہ باعلم افراد سے رابطے میں رہنے اور ان سے سیکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ مسلسل کوشش کر رہی ہیں اور انہیں روکا نہیں جا سکتا۔