انسانی کہانیاں عالمی تناظر
جنسی و تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایف پی اے) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر نتالیہ کینم۔

نظرانداز ہوئی خواتین و لڑکیوں کے حقوق کی چیمپئن ڈاکٹر نتالیہ کینم

© UNFPA/Anirban Mahapatra
جنسی و تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایف پی اے) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر نتالیہ کینم۔

نظرانداز ہوئی خواتین و لڑکیوں کے حقوق کی چیمپئن ڈاکٹر نتالیہ کینم

خواتین

ایک دس سالہ لڑکی چند برس میں بلوغت کی عمر کو پہنچنے والی ہے جس کا مستقبل غیریقینی ہے اور اسے حقوق ملنے کی کوئی ضمانت نہیں۔ کیا وہ سکول جا سکے گی اور تعلیم مکمل کر کے اچھی زندگی گزارنے کے قابل ہو پائے گی؟ یا نوعمری کی شادی، جنسی اعضا کی بریدگی اور شدید غربت اس کے خواب چھین لیں گے؟

جنسی و تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایف پی اے) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر نتالیہ کینم کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوالات رہے ہیں اور آٹھ سال بعد عہدے سے سبکدوش ہوتے وقت وہ لمبے چوڑے اعداوشمار، نجی تجربات یا پناہ گزینوں سے ملاقاتوں کا احوال بتانے کے بجائے انہی سوالات پر بات کرتی ہیں۔

انہوں نے مشرقی افریقہ کے ممالک میں نچلی سطح پر کام سے آغاز کیا اور ایسے ادارے کی سربراہی تک پہنچیں جس کا سالانہ بجٹ 1.7 ارب ڈالر ہے اور جو 150 سے زیادہ ممالک میں کام کر رہا ہے۔ ڈاکٹر کینم نے عالمگیر تبدیلیوں، سیاسی رکاوٹوں اور نظریاتی مخالفت کے باوجود 'یو این ایف پی اے' کو کامیابی سے درست سمت میں رہنمائی فراہم کی ہے اور سب سے بڑھ کر وہ خاموشی سے لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کی زندگی میں بہت بڑا انقلاب لائی ہیں۔

70 سالہ نتالیہ کینم رواں ماہ اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گی۔ یو این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ یہ عہدہ سنبھالتے وقت انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ 'یو این ایف پی اے' کو ایسے اقدامات کے قابل بنائیں گی جس سے دنیا بھر میں لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آ سکے۔

ڈاکٹر نتالیہ کینم اقوام متحدہ کے نیوز اینڈ میڈیا ڈویژن کی ڈپٹی ڈائریکٹر میتا حوصالی کو انٹرویو دیتے ہوئے۔
UN News
ڈاکٹر نتالیہ کینم اقوام متحدہ کے نیوز اینڈ میڈیا ڈویژن کی ڈپٹی ڈائریکٹر میتا حوصالی کو انٹرویو دیتے ہوئے۔

حقیقی تبدیلی کا سفر

نتالیہ کینم پانامہ میں پیدا ہوئیں اور ڈاکٹر کی حیثیت سے تربیت پائی۔ فلاحی شعبے میں طویل خدمات انجام دینے کے بعد 2014 میں انہوں نے 'یو این ایف پی اے' میں شمولیت اختیار کی۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ مقاصد کے لیے کام کرنے کا عزم پہلے انہیں مشرقی افریقہ اور تنزانیہ لے گیا جہاں وہ نچلی سطح پر کام کرنے والے عملے کے دلیرانہ کردار سے بے حد متاثر ہوئیں۔

2017 میں جب انہوں نے 'یو این ایف پی اے' کی باگ ڈور سنبھالی تو ادارے کا کام غیرنمایاں تھا، اسے مالی وسائل کی قلت اور قدامت پسند تصورات کی مسلسل مخالفت درپیش تھی۔ لیکن آئندہ برسوں میں اس نے ناصرف مالی مسائل پر قابو پایا بلکہ اس کی ساکھ نے بھی نمایاں ترقی کی۔

انہوں نے یو این نیوز کو بتایا کہ جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تو اس وقت اسے چھوٹا ادارہ سمجھا جاتا تھا اور زیادہ تر لوگ نہیں جانتے تھے کہ اس کا کام کیا ہے۔ تاہم، اب اس کے کام اور اہمیت کو سبھی جانتے ہیں۔

خواہ بارآوری کے بارے میں غلط تصورات کا رد کرنا ہو یا ٹیکنالوجی سے صنفی بنیاد پر لاحق تشدد کا مقابلہ درپیش ہو، انہوں ںے ہر ضروری معاملے میں 'یو این ایف پی اے' کو عالمگیر مکالمے کا حصہ بنایا۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں حقائق کو ایسے انداز میں بیان کرنا تھا جس سے ادارے کو اپنے کام میں زیادہ سے زیادہ ساتھی میسر آئیں جو کہ وقت کا تقاضا تھا۔

ان کی قیادت میں ادارے نے ہزاروں دائیوں کی تربیت کی، اربوں مانع حمل اشیا تقسیم کیں اور بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپوں سے لےکر جنگ زدہ یوکرین اور ہیضے سے متاثرہ ہیٹی تک بہت سے نازک حالات میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے امدادی کارروائیوں کو وسعت دی۔

بحران زدہ علاقوں میں 'یو این ایف پی اے' کی موجودگی محض انصرامی نوعیت کی یا علامتی نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ سوڈان، شام اور غزہ جیسی جگہوں پر کسی پناہ گزین خاتون کے خیمے میں ماہواری کے پیڈ، کمبل اور صابن کی موجودگی اسے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا دیتی ہے اور اس سے بحرانی دور میں خواتین کو آرام میسر آتا ہے۔

نیا اور درست بیانیہ

ڈاکٹر نتالیہ کینم نے 'یو این ایف پی اے' کو محض خدمات فراہم کرنے والے ادارے کی حیثیت تک محدود رکھنے کے بجائے منقسم دنیا میں اس کے ذریعے نوعمری کے حمل، ماحولیاتی اندیشوں، بارآوری کی شرح اور آن لائن ہراسانی جیسے مشکل موضوعات پر رہنمائی فراہم کی۔

نتالیہ کینم کی قیادت میں 'یو این ایف پی اے' نے دنیا بھر میں جنسی و تولیدی صحت کے حوالے سے اعدادوشمار کے ڈیٹا بیس کو وسعت دی جس سے رکن ممالک میں قانون سازوں کو تولیدی صحت کے بارے میں درست پالیسی کی تیاری میں مدد ملی۔

رواں سال دنیا کی آبادی کی صورتحال پر ادارے کی رپورٹ میں 'آبادی میں کمی' سے متعلق روایتی بیانیے کو نئے انداز میں پیش کیا گیا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد بچوں کی پیدائش میں تاخیر نظریاتی وجوہ کے بجائے اس لیے کرتی ہے کہ وہ ان کی پرورش کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

وہ ایسے نوجوانوں کی ستائش کرتی ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ بگڑتے موسمیتی بحران کے خوف سے بچے پیدا نہیں کر رہے۔ تاہم، نتالیہ کینم کا کہنا ہے کہ اعدادوشمار اس بات کی تائید نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ جتنے بچے اچھے انداز میں پالنے کی اہلیت رکھتے ہیں وہ اتنے ہی بچے پیدا کر سکتے ہیں اور اس سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

ڈاکٹر نتالیہ کینم بنین میں لوگوں سے مل رہی ہیں۔
© UNFPA/Abdoulatif Keita
ڈاکٹر نتالیہ کینم بنین میں لوگوں سے مل رہی ہیں۔

ساکھ اور استقامت

گزشتہ برسوں میں تولیدی صحت کے حقوق پر حملوں میں اضافہ ہوا، قوم پرستی میں شدت آئی اور کثیرفریقی اداروں کے بارے میں شکوک و شبہات کو ہوا ملی۔ اس دوران امریکہ اور بالخصوص اس کی موجودہ حکومت نے 'یو این ایف پی اے' کے پروگراموں کے لیے مالی وسائل میں بڑے پیمانے پر کمی کی جبکہ اس عرصہ میں ادارے کی مالی ضروریات میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا۔

وہ کہتی ہیں کہ اب ادارے کے پاس پہلے سے کہیں زیادہ وسائل ہیں لیکن ضروریات بھی پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف وسائل کی فراہمی سے ادارے کا مستقبل محفوظ نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے ساکھ اور استقامت بھی بہت ضروری ہے۔ کثیرفریقی نظام کی اہمیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ اب اس کی ضرورت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے اور ادارے کو نئے شراکت داروں کی ضرورت ہے۔

نجی شعبہ بھی ایسا ہی شراکت دار ہے۔ 2023 میں ادارے نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک سے کینیا میں ایک پروگرام شروع کیا جس میں موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے لڑکیوں اور خواتین کو جنسی و تولیدی صحت کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ انہیں نوعمری کے حمل اور ایچ آئی وی سے تحفظ دیا جا سکے۔

سوچ میں تبدیلی

نتالیہ کینم نے یو این نیوز کو بتایا کہ 'یو این ایف پی اے' نے خواتین کے جنسی اعضا کی بریدگی (ایف جی ایم) اور نوعمری کی شادی جیسی نقصان دہ رسومات کا خاتمہ کرنے کے لیے بھی بہت سا کام کیا ہے۔ ان کی قیادت میں اس حوالے سے لوگوں میں ذہنی تبدیلی لانے اور 'ایف جی ایم' کے خلاف قانون سازی پر بھی خاص توجہ دی گئی۔

وہ بتاتی ہیں کہ اس معاملے میں حقیقی پیش رفت ہوئی ہے۔ اب مذہبی اور روایتی رہنما بھی ایسی رسومات کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں جو کہ بہت اہم ہے۔ اسی طرح، سکولوں میں ان مسائل پر آگاہی دی جا رہی ہے جس کی بدولت لڑکیوں کو یہ خطرات پہچاننے اور اپنے بارے میں بہتر فیصلے لینے میں مدد ملے گی۔

تاہم، وہ کہتی ہیں کہ کووڈ۔19 وبا کے عرصہ میں ایسے مسائل پر پیش رفت کو نقصان پہنچا جب سکول بند ہو گئے تو بہت سی لڑکیوں کو نوعمری میں شادی اور جنسی اعضا کی بریدگی کا سامنا کرنا پڑا۔ البتہ، بہت سی جگہوں پر ان مسائل میں کمی بھی آئی جن میں انڈونیشیا بھی شامل ہے۔ اس کی بڑی وجہ وہاں کے نوجوان ہیں جنہوں نے اپنے علاقوں میں نچلی سطح پر ان مسائل بارے آگاہی پھیلانے کے لیے نمایاں کام کیا۔

ڈاکٹر نتالیہ کینم فلپائن میں ایک ماں اور اس کی نوزائیدہ بچی کے ساتھ۔
UNFPA Philippines/Ezra Acayan
ڈاکٹر نتالیہ کینم فلپائن میں ایک ماں اور اس کی نوزائیدہ بچی کے ساتھ۔

نئی نسل، نیا باب

نتالیہ کینم مستقبل کے حوالے سے غیریقینی کا شکار نہیں بلکہ بہتر امکانات دیکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ادارے نے خود کو تبدیل کیا اور جدید بنایا ہے اور اس کے پاس بہت کچھ کرنے کی صلاحیت ہے۔

انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے بتایا کہ اب وہ موسیقی، اپنے خاندان اور خود کو وقت دیں گی۔ تاہم خواتین اور لڑکیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ان کا جذبہ ماند نہیں پڑ سکتا۔ جب 10 سالہ لڑکی کامیاب ہو گی تو سبھی کامیاب ہوں گے اور اسی طرح دنیا کو بہتر جگہ بنایا جا سکتا ہے۔