انٹرویو: یو این امن کاری میں خواتین کا کردار انتہائی اہم، میجر ماہم جمال
وسطی جمہوریہ افریقہ میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل پاکستان کی فوجی افسر میجر ماہم جمال کہتی ہیں کہ قیام امن کی کارروائیوں میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے اور بحران زدہ علاقوں میں ان کی موجودگی مقامی لوگوں کو درپیش کئی سنگین مسائل کے حل میں معاون ہوتی ہے۔
میجر ماہم جمال گزشتہ چھ ماہ سے وسطی جمہوریہ افریقہ (سی اے آر) میں اقوام متحدہ کے امن مشن 'مینوسکا' سے وابستہ ہیں۔ اس حیثیت میں وہ مشن کی ذمہ داریوں سے متعلق تمام واقعات کی تفصیلات جمع کرتی ہیں اور ان کے بارے میں مزید اطلاعات حاصل کر کے ان کا تجزیہ کرتی اور اپنی قیادت کو رپورٹ دیتی ہیں۔ اس تجزیے کی بدولت مشن کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے یو این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے مشن کی ذمہ داریوں اور ذاتی تجربات کی روشنی میں امن کاری میں خواتین کے اہم کردار کا تذکرہ کیا۔
امن کارروائیوں میں پاکستان کا کردار
میجر ماہم جمال بتاتی ہیں کہ پاکستان نے دنیا بھر میں امن و سلامتی کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کیا ہے۔ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں کے لیے فوجی اہلکار فراہم کرنے والے ممالک میں پاکستان کا ساتواں نمبر ہے اور ان کارروائیوں میں اس کی شمولیت تقریباً پانچ فیصد ہے۔
پاکستان امن کارروائیوں کے لیے بڑی تعداد میں خواتین اہلکار بھی بھیج رہا ہے۔ اس وقت 'مینوسکا' میں ملٹری سٹاف آفیسر اور ملٹری آبزرور کی حیثیت سے پاکستان کی فوج سے تعلق رکھنے والی خواتین کی شمولیت 20 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں پاکستان کی خواتین فوجی اہلکار دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
'مینوسکا' کے مقاصد
انہوں نے بتایا کہ 'مینوسکا' کو وسطی جمہوریہ افریقہ میں پائیدار امن، سلامتی اور انسانی حقوق کے فروغ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ شہریوں کو مسلح گروہوں، فرقہ وارانہ تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے تحفظ دینا اس مشن کا بنیادی مقصد ہے۔
ملک میں امن و استحکام کا قیام، انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا، ریاستی اداروں کی تعمیرنو اور انصاف و انسانی حقوق کا تحفظ بھی مشن کے دائرہ کار میں شامل ہے۔
احترام اور غیرجانبداری
ماہم جمال کا کہنا ہے کہ امن مشن میں کام کرنا بہت اہم ذمہ داری ہے اور اس میں بہت سے مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں۔ کسی مشن میں کام کرنے والے لوگ مختلف پس منظر اور ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی زبان اور طور طریقے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں، امن کار جن لوگوں کو مدد دیتے ہیں ان کی ثقافت، رہن سہن اور زبان بھی مختلف ہوتی ہے۔ اسی لیے امن کاری میں باہمی سمجھ بوجھ، احترام اور غیرجانبداری کے اصولوں کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امن مشن میں کام کرتے ہوئے کوئی اہلکار کسی مخصوص گروہ کے لیے جانبدار نہیں ہو سکتا۔ ان کے لیے پیشہ وارانہ ضوابط کی پابندی کرنا اور مقامی حکومت کے ساتھ چلنا بھی لازم ہے۔
امن مشن میں خواتین کی اہمیت
ماہم جمال کہتی ہیں کہ انہیں پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے لیے خدمات انجام دینے کا موقع ملا ہے جس سے انہوں نے یہ سیکھا کہ ایک دوسرے کو احترام دینا اور برداشت کرنا اس کام میں کامیابی کی کنجی ہے۔
کسی نئے مسئلے سے نبرد آزما ہونے اور اس سے نمٹنے کے لیے ٹیم ورک کی خاص اہمیت ہے۔ چونکہ امن مشن کثیرلسانی اور کثیرثقافتی پلیٹ فارم ہوتا ہے اس لیے یہاں باہمی احترام اور ایک دوسرے کو مدد فراہم کرنے سے کامیابی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
بحران زدہ علاقوں میں بہت سے مسائل مقامی خواتین کو غیرمتناسب طور سے متاثر کرتے ہیں۔ امن مشن میں خواتین اہلکاروں کی موجودگی اس لیے بھی اہم ہوتی ہے کہ مسائل کا سامنا کرنے والی خواتین کے لیے ان تک اپنی بات پہنچانا اور مدد لینا آسان ہوتا ہے۔
قابل فخر ذمہ داری
انہوں نے بتایا کہ دو چھوٹے بچوں کی ماں ہونے کے ناطے ابتداً ان کے لیے نئی جگہ پر جانا اور نئی ذمہ داریاں نبھانا آسان نہیں تھا لیکن ایسے کام میں اپنی ذاتی جذبات پر فرائض کو فوقیت دی جاتی ہے۔ میجر ماہم کا ایک بیٹا پانچ سال اور دوسرا ابھی صرف ڈیڑھ سال کا ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ مشن کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس کے مقاصد کے حصول میں اپنا کردار ادا کرنا باعث فخر بات ہے۔ اسی لیے بہت جلد انہوں نے خود کو اپنے نئے کردار کے مطابق ڈھال لیا اور اس کام نے ان کی شخصیت میں بہت سی تبدیلی پیدا کی ہے جس پر وہ فخر محسوس کرتی ہیں۔
ماہم جمال سمجھتی ہیں کہ دنیا بھر میں امن کارروائیوں کے لیے بڑی تعداد میں مزید خواتین کی خدمات لینا ضروری ہے جس سے اس کام کو مزید نتیجہ خیز بنایا جا سکتا ہے۔