انسانی کہانیاں عالمی تناظر
اقوام متحدہ کی لبنان میں خدمات انجام دینے والی عبوری فورس (یو این آئی ایف آئی ایل) کے ساتھ خدمات سرانجام دینے والے امن محافظوں کے نیلے ہیلمیٹ اور بلٹ پروف ویسٹ۔

منقسم اقوام یو این امن کاری کے لیے سب سے بڑا خطرہ، ژاں پیئر لاکوا

UN Photo/Pasqual Gorriz لبنان اسرائیل سرحد پر تعینات امن کاروں کے ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹ۔

منقسم اقوام یو این امن کاری کے لیے سب سے بڑا خطرہ، ژاں پیئر لاکوا

انٹرویو: انشو شرما
امن اور سلامتی

اقوام متحدہ میں امن کارروائیوں کے سربراہ ژاں پیئر لاکوا نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو رکن ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی تقسیم سے خطرات لاحق ہیں۔

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں خواتین امن کاروں کی کانفرنس کے موقع پر یو این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن کاری کو موثر بنانے کے لیے رکن ممالک کے باہمی اختلافات کو ختم کرانے اور بحرانوں سے نمٹنے کی اہلیت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ دو روزہ کانفرنس قیام امن کے شعبے میں خواتین کی اہمیت کو واضح کرنے کا موقع تھا۔ اس دوران مندوبین نے امن کاری کو لاحق حالیہ مسائل اور آج کے ارضی سیاسی منظرنامے کی نئی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اقوام متحدہ اور رکن ممالک کے مابین اشتراک کار پر بات کی۔

وضاحت اور اختصار کے مقصد سے اس انٹرویو کو مدون کیا گیا ہے۔

یو این نیوز: آئندہ 20 برس میں قیام امن کی کوششوں کو لاحق سب سے بڑا خطرہ کیا ہو گا اور اس پر قابو پانے کے لیے آج کون سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟

ژاں پیئر لاکوا: اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے مابین پائی جانے والی تقسیم سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ادارہ قیام امن کے لیے انہی ممالک کی مضبوط اور متحدہ سیاسی حمایت پر انحصار کرتا ہے۔ بدقسمتی سے آج یہ اتحاد کمزور پڑ گیا ہے۔ ان حالات میں جب امن کارروائیوں کو مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انہیں رکن ممالک اور اپنی میزبان حکومتوں کی جانب سے مضبوط اور متحدہ مدد نہیں ملتی۔

ایک اور اہم نقطہ یہ ہے کہ قیام امن کے لیے بھیجے جانے والے مشن سیاسی کوششوں میں مدد دینے کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں۔ تاہم ان سیاسی کوششوں کو کامیابی کے لیے متحدہ، پرعزم اور مضبوط عالمی برادری کی ضرورت ہوتی ہے۔

اب تنازعات کی نوعیت تبدیل ہو چکی ہے اور ان میں مزید غیر ریاستی کردار بشمول نجی سکیورٹی کمپنیاں بھی شامل ہو گئی ہیں۔ تنازعات کے محرکات تیزی سے بین الاقوامی ہوتے جا رہے ہیں خواہ یہ دہشت گردی ہو، منظم جرائم یا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ہوں۔

انڈر سیکرٹری جنرل برائے امن آپریشنز، جین پیئر لاکروکس، بھارت میں خواتین کی امن قائم کرنے والی کانفرنس کے دوران 'میک ان انڈیا' نمائش میں فوجی گاڑیوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔
UN India/ Shachi Chaturvedi ژاں پیئر لاکوا نڈیا میں میں خواتین امن کاروں کے ساتھ۔

یو این نیوز: امن کاری میں مصنوعی ذہانت، سائبر حملوں اور ڈرون جیسی نئی ٹیکنالوجی سے لاحق خطرات سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے؟

ژاں پیئر لاکوا: یہ ایک اہم مقصد ہے اور اسی لیے ہم نے امن کاری میں ڈیجیٹل تبدیلی لانے کی حکمت عملی شروع کی ہے۔ اس کا مقصد حالات سے متعلق آگاہی کو بہتر بنانا، امن کاروں کے حفاظتی انتظام میں اضافہ کرنا اور غلط و گمراہ کن اطلاعات سے نمٹنا ہے جنہیں بہت سی امن کارروائیوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

تاہم، ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے امن کاروں کی ڈیجیٹل خواندگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں تربیت اور تیاری کے حوالے سے نمایاں کوششیں درکار ہوں گی۔ ہم محض اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ میں بیٹھ کر یہ سب کچھ نہیں کر سکتے بلکہ اس کے لیے ہمیں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ 

یو این نیوز: آپ کی رائے میں خواتین کو اقوام متحدہ کی امن کاری میں نمایاں کردار ادا کرنے کے لیے اگلے محاذوں سے لے کر قائدانہ کردار تک کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے؟

ژاں پیئر لاکوا: قیام امن کی کارروائیوں میں خواتین کی تعداد کا معاملہ ہو تو ہم پہلے سے بہت بہتر ہیں اور امن کاروں میں خواتین کا تناسب متواتر بڑھ رہا ہے۔ تاہم، فورس کمانڈر اور ڈپٹی فورس کمانڈر جیسے اعلیٰ عہدوں پر مزید خواتین افسروں کی ضرورت ہے۔ بہت سے ممالک کی مسلح افواج میں ایسے عہدوں پر خواتین کی بڑی تعداد موجود نہیں ہوتی، تاہم انڈیا اس معاملے میں دوسروں سے آگے ہے اور امن کارروائیوں کے لیے بڑی تعداد میں خواتین افسر مہیا کر رہا ہے۔

ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ امن کاری کے ماحول کو خواتین اور مردوں دونوں کے لیے کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں سہولیات کی فراہمی جیسے عملی مسائل بھی شامل ہیں اور ہمارے کیمپوں کے معیار کو ناصرف خواتین اور بلکہ مردوں کے لیے بھی مزید بہتر بنانے کے لیے بہت سی کوششیں ہو رہی ہیں۔ 

اس کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام امن کار مردو خواتین اپنے کام کے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے ہرممکن کوشش کریں۔ ہم اس پر کام کر رہے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ فوجی اور پولیس اہلکار فراہم کرنے والے ممالک کے ساتھ ہماری ایک مشترکہ ذمہ داری بھی ہے۔

سالواڈورین آرمڈ ہیلی کاپٹر یونٹ کے پائلٹ ٹمبکٹو، مالی میں ٹرمک پر چل رہے ہیں۔
© UN Photo/ Gema Cortes یو این امن کار مالی میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے۔

یو این نیوز: امن کاری میں خواتین کی تعداد اور استعداد کار کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟

ژاں پیئر لاکوا: پہلی بات یہ کہ خواتین کو بااختیار بنانا اقوام متحدہ کی پالیسی ہے۔ خواتین امن کاروں کی تعداد جتنی زیادہ ہو گی، کام کا ماحول بھی اتنا ہی زیادہ بہتر ہو گا اور وہ دوسری خواتین کے لیے مثال ثابت ہوں گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب بھی کسی امن مشن میں خواتین کی تعداد زیادہ رہی تو وہاں طرز عمل اور نظم و ضبط میں بھی بہتری دیکھی گئی۔

جب کسی مشن میں خواتین کی تعداد زیادہ ہو تو مقامی سطح پر لوگوں کا اس مشن پر اعتماد بھی بڑھ جاتا ہے اور امن کارروائیوں میں اسی بات پر باقاعدگی سے زور دیا جاتا ہے کہ امن کاروں کو مقامی آبادی کا بھرپور تعاون اور اعتماد ملنا چاہیے۔

تاہم، خواتین کا کردار محض مقامی لوگوں کے ساتھ رابطوں تک ہی محدود نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، ہمارے پاس ایسی خواتین افسر بھی ہیں جو ہیلی کاپٹر اڑاتی ہیں اور بنیادی طور پر ان کے لیے ہر ایسے کام کے مواقع کھلے ہیں جو مرد اہلکار انجام دیتے ہیں۔

یو این نیوز: آپ کی رائے میں جنوبی دنیا کے ممالک امن کاری میں مزید فعال کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں؟ 

ژاں پیئر لاکوا: ہمارے بیشتر امن کاروں کا تعلق جنوبی دنیا کے ممالک سے ہے جن میں انڈیا بھی شامل ہے جو قیام امن کی کارروائیوں کے لیے سب سے بڑی تعداد میں اہلکار فراہم کرتا ہے۔ ان کا کردار محض تعداد ہی نہیں بلکہ دیگر حوالوں سے بھی اہم ہے۔

مثال کے طور پر، انڈیا تحفظ و سلامتی سے لے کر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال تک امن کاری کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں میں مدد دے رہا ہے۔ یقیناً اس میں خواتین اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کرنا، کارکردگی کے جائزے کو بہتر بنانا اور دیگر کام بھی شامل ہیں۔

میری رائے میں ہمیں جنوبی دنیا کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم دور حاضر کے مسائل سے نمٹ سکیں اور خود کو ان سے ہم آہنگ کر سکیں۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مستقبل میں بھی امن کاری کارآمد رہے۔