انٹرویو: اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ کی افغانستان کے لیے انسانی امداد، خواتین کے حقوق اور طالبان کے بارے میں بات چیت

ہنگامی امدادی کارروائیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطہ کار مارٹن گرفتھس افغان عوام کی ضروریات پر بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد سے قبل یو این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے۔

طالبان نے مجھے بتایا کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ مذہب اور افغان ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کا تحفظ ہو گا۔

UN Geneva/Srdan Slavkovic
ہنگامی امدادی کارروائیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطہ کار مارٹن گرفتھس افغان عوام کی ضروریات پر بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد سے قبل یو این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے۔

انٹرویو: اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ کی افغانستان کے لیے انسانی امداد، خواتین کے حقوق اور طالبان کے بارے میں بات چیت

انسانی امداد

13 ستمبر بروز سوموار افغانستان کے لیے مالی امداد کی ایک بڑی اپیل کی جانا ہے۔ اس سے پہلے ہنگامی امدادی کارروائیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطہ کار مارٹن گرفتھس نے یو این نیوز کو ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے اپنے اس یقین کا اعادہ کیا کہ ملک کے نئے طالبان رہنما اس بات کو سمجھتے ہیں کہ عالمی برادری خواتین کے حقوق برقرار رکھنے اور امدادی اداروں کے آزادانہ ماحول میں کام کرنے کو کس قدر اہمیت دیتی ہے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر پیلے ڈی نیشنز (پیلس آف نیشنز) میں دیے گئے انٹرویو میں گرفتھس کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں سوموار تک طالبان کے نائب وزیراعظم کی جانب سے یہ تحریری یقین دہانی موصول ہونے کی امید ہے کہ امدادی ادارے اور ان کے شراکت دار افغانستان میں آزادانہ طور پر اور اپنی مرضی سے کام کر سکیں گے۔

'رقم کا درست استعمال'

گرفتھس نے کہا کہ سال کے آخر تک تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ افراد کی مدد کے لیے 600 ملین ڈالر سے زیادہ مالی وسائل مہیا کرنے کے لیے کی جانے والی ہنگامی اپیل افغانوں کی اہم ضروریات کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے سامنے لانے اور یہ وعدہ کرنے کا موقع ہے کہ نہایت مشکل حالات میں وہ ان ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے اقوام متحدہ کے ساتھ شراکت قائم کریں گے۔

15 اگست کو ملک پر طالبان کے قبضے پر منتج ہونے والی لڑائی اور افراتفری کے نتیجے میں بے گھر ہو جانے والے افغانوں کے ساتھ کابل میں ایک ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے گرفتھس کا کہنا تھا کہ اگر مالی وسائل کا فوری انتظام ہو جائے تو اس ہنگامی اپیل کے ذریعے ان لوگوں کی مدد کرنا مقصود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ''میں نے ان لوگوں سے بات کی اور پوچھا کہ 'آپ کیا چاہتے ہیں؟' ہم نے جن لوگوں سے بات کی ان میں سے دو تہائی اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے تھے۔ ایک تہائی لوگوں کو تاحال یہ اعتماد نہیں تھا کہ واپسی کی صورت میں طالبان ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ گھروں کو واپسی کے خواہش مند دو تہائی لوگوں کو سفر کے لیے کرایہ درکار تھا اور بعض کو اپنے گھروں اور اپنے علاقوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے مدد چاہیے تھی۔ اگر ہم خطے کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور یہ خواہش رکھتے ہیں کہ لوگ ہمسایہ ممالک اور دیگر جگہوں کا رخ کرنے کے بجائے افغانستان میں ہی رہیں تو اس رقم کا درست استعمال کرنا ہو گا۔''

خواتین کے حقوق اور امداد تک رسائی

افغان خواتین اور لڑکیاں کووڈ۔19 کے بارے میں إگاہی لیتے ہوئے۔
© UNICEF/Sayed Bidel
افغان خواتین اور لڑکیاں کووڈ۔19 کے بارے میں إگاہی لیتے ہوئے۔

مارٹن گرفتھس نے کہا کہ انہوں نے کابل کے اپنے حالیہ دورے میں طالبان کی قیادت کے ساتھ دو بڑے مسائل پر بات کی جہاں وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے کہنے پر گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں پہلا مسئلہ عورتوں اور لڑکیوں کے حقوق سے متعلق تھا کہ انہیں ہر وہ حق ملنا چاہیے جو کسی معاشرے میں عام ہوتا ہے۔ اس میں کام، تعلیم اور نقل و حرکت کی آزادی جیسے حقوق شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر 'او ایچ سی ایچ آر' کے مطابق یہی وہ بنیادی توقعات اور مطالبات ہیں جن کا افغانستان بھر میں پُرامن مظاہرین نے اظہار کیا اور جن کے لیے، اطلاعات کے مطابق، انہیں پیٹا گیا اور کوڑے مارے گئے۔

گرفتھس کا کہنا ہے کہ ''طالبان نے مجھے بتایا کہ 'ہم وعدہ کرتے ہیں کہ مذہب اور افغانستان کی ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے عورتوں اور لڑکیوں کے حقوق کا تحفظ ہو گا۔' اب یہ کام جاری ہے اور ہم پہلے ہی اس پر بات کر چکے ہیں۔ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ہمیں اس پر مزید بہت سی بات چیت کرنا ہے کہ دراصل اس کا مطلب کیا ہے۔ یہ ناصرف افغانستان کے لوگوں کے لیے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی بہت اہم معاملہ ہے۔''

گرفتھس امدادی کاموں کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور اس سے پہلے انہوں نے 1998 میں بھی طالبان سے بات کی تھی جب وہ پہلی مرتبہ برسراقتدار آئے تھے۔ انہوں نے طالبان کے ساتھ ''آنے والے دنوں اور ہفتوں میں مزید بہت سی بات چیت'' کی ضرورت پر زور دیا جس میں ان سے پوچھا جائے گا کہ خواتین کے حقوق سلب کیے جانے کے خدشات کی موجودگی میں ان کے ساتھ مسلسل عالمی ربط کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ''یہ وہ بات ہے جو طالبان نے خود مجھے بتائی۔ وہ اپنی توقع سے کہیں پہلے اقتدار میں آ گئے ہیں اور وہ اس کے لیے تیار نہیں تھے۔''

طالبان کی تحریری یقین دہانی

مارٹن گرفتھس دارالحکومت کابل میں طالبان قیادت کے ساتھ افغان عوام کی ضروریات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے۔
OCHA
مارٹن گرفتھس دارالحکومت کابل میں طالبان قیادت کے ساتھ افغان عوام کی ضروریات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے۔

امدادی کاموں سے متعلق اقوام متحدہ کے سربراہ نے طالبان کے ساتھ یہ بات بھی کی کہ امدادی اداروں کو اپنا کام کرنے کے لیے کیسے حالات درکار ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نائب وزیراعظم ملا برادر اور ان کے مشیر کے ساتھ ان مسائل پر قدرے تفصیل سے بات کی جس میں امدادی کارکنوں کا تحفظ اور سلامتی، امدادی اداروں کی جانب سے اپنی مرضی کے مرد و خواتین ملازمین کی تعیناتی کی آزادی اور اس بات کی ضمانت شامل ہے کہ امدادی کارروائیاں آزادانہ طور سے انجام دی جائیں گی اور ان پر امدادی اداروں کا مکمل کنٹرول ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی اس نئی انتظامیہ کے اعلیٰ ترین رہنماؤں میں شامل ملا برادر نے تصدیق کی ہے کہ وہ ان تمام باتوں کو تسلیم کریں گے۔ گرفتھس کا کہنا تھا کہ ''امدادی ادارے ایسے ہی حالات میں اپنا کام کر سکتے ہیں۔ میری درخواست پر اب وہ اپنے زبانی وعدوں کو تحریری یقین دہانی کی صورت دے رہے ہیں۔ امید ہے کہ سوموار کو یہاں جنیوا میں ہمیں ان کی جانب سے اس یقین دہانی پر مبنی خط موصول ہو جائے گا۔''

لاکھوں افغانوں کی حالتِ زار پر بات کرتے ہوئے مارٹن گرفتھس نے بتایا کہ ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے نصف سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ''ملک کی دو تہائی آبادی کو انسانی امداد درکار ہے۔ یہ ضرورت حالیہ واقعات سے پہلے بھی موجود تھی۔ اسی لیے ہم نے وہاں امدادی ضروریات کا ازسرنو اندازہ لگایا اور موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے تخمینے میں مزید مالی وسائل شامل کیے۔ امید ہے کہ سوموار کو ایسے وعدے کیے جائیں گے جن سے ہمیں اپنے مقصد کے حصول کے لیے آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔''

طالبان کی سوچ میں تبدیلی

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انہوں نے دو دہائیاں پہلے کے مقابلے میں طالبان کی موجودہ انتظامیہ میں کوئی تبدیلی محسوس کی تو انہوں نے پاکستان اور قطر کے نمائندوں کے ساتھ طالبان کی حالیہ ملاقات کا تذکرہ کیا جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ان کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے نمائندوں نے انہیں بتایا کہ ''اس مرتبہ طالبان قیادت اس بات کو اچھی طرح سمجھتی ہے کہ انہیں لوگوں کو وہ امداد پہنچانے کے لیے عالمی برادری کی کس قدر ضرورت ہے جس کے بارے میں ہم بات کرتے چلے آئے ہیں۔''

جیسا کہ انہوں نے بتایا، افغانستان میں معاشی حالات بہت مشکل ہیں، بینک بند ہو گئے ہیں، مالیاتی نظام میں کوئی رقم نہیں ہے، لوگوں کو تنخواہیں نہیں مل رہیں اور مقامی ادارے خطرات سے دوچار ہیں۔ طالبان کو اس صورتحال کا اسی طرح اندازہ ہے جس طرح آپ کو اور مجھے ہے۔ لہٰذا انہیں ہماری ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات انہیں ان وعدوں پر عملدرآمد کے لیے مجبور کرے گی جو انہوں نے مجھ سے کیے ہیں۔ امید ہے کہ جب ہم وعدوں سے عملی کام کی جانب جائیں گے تو یہ بات ان کے طرزعمل میں تبدیلی لانے کا موجب بنے گی۔