شام

شام

اپنے ہی وطن میں دربدر ہونے والی مائیں اپنے بچوں کے ساتھ شمال مشرقی شام کے شہر ہساکا کے ایک طبی مرکز کے باہر قطار بنائے کھڑی ہیں۔
© UNICEF

''اگر اس بات کا اعادہ ضروری ہو تو میں کہوں گا کہ شہریوں کو خوراک، ادویات اور زندگی کے تحفظ میں مدد دینے والی چیزوں کی ضرورت ہے۔ اس سے انہیں باوقار زندگی گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ انہیں نقصان سے تحفظ کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں اپنی رسائی بڑھانا ہو گی۔ ہمیں امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے مالی وسائل درکار ہیں۔ ہمیں اپنی کوششوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اس مقصد کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے تاکہ بحالی کے ابتدائی پروگراموں کو مزید ترقی دے جائے۔''

27 جنوری 2022 کو انسانی امور اور ہنگامی امداد سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطہ کار مارٹن گرفتھس کی سلامتی کونسل کو بریفنگ

عمومی جائزہ

مارچ 2011 میں تنازع شروع ہونے کے بعد شام میں اب تک جتنی تباہی ہو چکی اور جتنے لوگ بے گھر ہوئے ہیں اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ شام کے ساٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں اور سڑسٹھ لاکھ افراد اندرون ملک بے گھر ہیں۔ ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو امداد کی مسلسل ضرورت ہے جبکہ یہ جنگ شام کے مرد، خواتین اور بچوں کے لیے ناقابل بیان مصائب لائی ہے۔

شام کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹس

شام کے بارے میں خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

 

جنگ کے اثرات
  • شام کے شہر ادلب میں ایک تباہ حال عمارت
    © UNICEF/Giovanni Diffidenti
    شام کے بحران کو اس وقت 11واں سال جاری ہے اور یہ دنیا میں بے گھری کا سب سے بڑا بحران ہے۔ عرب جمہوریہ شام میں 11 سالہ جنگ کا خمیازہ بچے بھگت رہے ہیں۔ ایک کروڑ چونتیس لاکھ سے زیادہ لوگوں (ان میں اکسٹھ لاکھ بچے شامل ہیں) کو مدد کی ضرورت ہے اور ستر لاکھ لوگ (ان میں اکتیس لاکھ بچے شامل ہیں) اندرون ملک بے گھر ہیں۔
  • 2022 میں ایک کروڑ چھیالیس لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، ضرورت مندوں کی یہ تعداد 2021 کے مقابلے میں اکیس لاکھ زیادہ ہے۔
  • 2021 کے لیے امدادی اقدامات کے منصوبے کو درکار مالی وسائل میں سے صرف 46 فیصد ہی موصول ہوئے لیکن اس کے باوجود شام ایسے ممالک میں شامل تھا جہاں سب سے زیادہ امدادی اقدامات کیے گئے اور اوسطاً ہر مہینے وہاں اڑسٹھ لاکھ افراد کو مدد مہیا کی گئی۔
  • کووڈ۔19 وباء کے تباہ کن اثرات اور بڑھتی غربت کے باعث شام کے لوگ روزانہ ہنگامی بنیادوں پر نقل مکانی کر رہے ہیں۔
  • شام کا شمار دنیا میں بدترین غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے 10 ممالک میں ہوتا ہے جہاں ایک کروڑ بیس لاکھ افراد کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔
  • اس خطے میں موجود شامی مہاجرین میں 48% خواتین ہیں۔

اقوام متحدہ کے اقدامات پر ایک نظر

لوگ دمشق میں UNRWA کے تحت کام کرنے والے ایک مرکز سے خوراک کے حصول کے لیے اکٹھے ہیں۔
UNRWA
  • سلامتی کونسل شام کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سیاسی اقدام کی قیادت کر رہی ہے۔ 2021 میں 15 رکنی کونسل نے شام کے مسئلے پر 12 مرتبہ گفت و شنید کی جو کہ اکثر غیررسمی مشاورت کے ذریعے ہوئی۔ 2012 سے اب تک کونسل نے شام کے بارے میں یا بڑی حد تک شام سے متعلق 27 قراردادیں منظور کی ہیں۔
  • اقوام متحدہ اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے شام کے لوگوں کی منشاء اور انہی کے زیرقیادت سیاسی عمل کے لیے کی جانے والی کوششوں کی بدستور حمایت کرتا ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے جاری اس جنگ میں تقریباً 350,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک کروڑ چھیالیس لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
  • جولائی 2021 میں کونسل نے قرارداد 2528 (2021) کی منظوری دی جس کے ذریعے شام میں امداد کی فراہمی کے لیے سرحد پار طریقہ کار کی مدت کو وسعت دینا ممکن ہوا (یہ قرارداد 2156 (2014) کے بعد اس مسئلے پر پہلی متفقہ قرار داد تھی)
  • اقوام متحدہ کے اداروں اور ان کےشراکت داروں کی جانب سے عرب جمہوریہ شام کے طول و عرض میں امداد مہیا کی جا رہی ہے۔
  • یونیسف کو 2022 میں عرب جمہوریہ شام میں بچوں کی مدد کے لیے 334.4 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔ اس امداد کا بڑا حصہ پانی، نکاسی آب، صحت و صفائی، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں پر خرچ کیا جانا ہے۔
  • پناہ گزینوں اور مطابقت پذیری کے حوالے سے 2021 اور 2022 کے لیے اقوام متحدہ کے زیرقیادت علاقائی منصوبے (3 آر پی) کے تحت ہمسایہ ممالک میں مقیم شام کے تقریباً 6 ملین مہاجرین کی مدد کے لیے 5.8 بلین ڈالر کے مالی وسائل مہیا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
  • اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل 2011 سے اب تک شام میں بین الاقوامی قانون کی تمام خلاف ورزیوں کی غیرجانبدار انکوائری کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرتی آ رہی ہے۔
امدادی اقدامات

اقوام متحدہ کے امدادی اقدامات

شامی پناہ گزین لبنان کے شہر ارسل کے قریب رجسٹریشن کے لیے قطار بنائے کھڑے ہیں۔
UNHCR/M. Hofer

2011 میں شام کا بحران شروع ہونے کے بعد وہاں اب تک 350,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس جنگ کے ہر 13 متاثرین میں سے ایک عورت یا بچہ ہے۔ شام کی مجموعی آبادی میں نصف سے زیادہ لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور ان میں بہت سے لوگوں کو اکثر کئی مرتبہ ہجرت کرنا پڑی ہے جس کے نتیجے میں شام کو دنیا میں بے گھری کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔ بڑے پیمانے پر عدم تحفظ اور بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قانون سے بے توجہی کے تناظر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی اور پامالی جاری ہے۔ اقوام متحدہ شام میں ضرورت مند لوگوں کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

بورڈ آف انکوائری

بورڈ آف انکوائری کی جاری کردہ رپورٹ کا خلاصہ

قفر نبل ہسپتال 2019 میں حملوں کے بعد سے ناکارہ ہوچکا ہے۔
UNICEF/Khalil Ashawi

اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے قائم کردہ بورڈ آف انکوائری کی جانب سے شمال مغربی شام میں 17 ستمبر 2018 سے اب تک پیش آنے والے تشدد کے مخصوص واقعات کے بارے میں تیار کردہ رپورٹ کا سیکرٹری جنرل کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ خلاصہ۔ اس میں اقوام متحدہ کی طرف سے جنگ کے لیے ممنوع قرار دیے گئے علاقوں کی فہرست میں شامل مقامات اور اقوام متحدہ کی مدد سے کام کرنے والی جگہوں پر حملوں کے واقعات بھی شامل ہیں۔