انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین

یوکرین سے گندم سے ترکی میں بنے آٹے سے لدا مال بردار بحری جہاز بریو کمانڈر یمن کی بندرگاہ حدیدہ پر کھڑا ہے۔
© WFP/Mohammed Awadh

غذائی تحفظ کو خطرات کے پس منظر میں کھاد کی فراہمی میں کامیابی

اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا ہے کہ یورپ کی بندرگاہوں میں پھنسی روس کی لاکھوں ٹن کھاد کی ممکنہ تقسیم کے معاملے میں ''کامیابی'' حاصل ہوئی ہے۔ آئندہ سال غذائی عدم تحفظ کے عالمگیر بحران سے بچنے کے لیے اس کھاد کی ترسیل ضروری ہے۔

انڈر سیکرٹری روزمیری ڈی کارلو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یوکرین کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کر رہی ہیں۔
UN Photo

یوکرین جنگ پھیلنے کا خدشہ حقیقی طور پر منڈلا رہا ہے: روزمیری ڈی کارلو

اقوام متحدہ کے سیاسی امور کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو نے بدھ کو سلامتی کونسل کو بتایا کہ یوکرین میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بمباری میں شدت آئی ہے اور خبردار کیا کہ جنگ کے مزید بھڑکنے سے اس کے ہولناک اثرات دوسرے ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

یوکرین میں جنگ سے متاثرہ عمارتیں
© UNICEF/Anton Kulakowskiy

روس یوکرین کے نقصانات کی تلافی کرے: جنرل اسمبلی کی قرارداد

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سوموار کو ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں روس سے کہا گیا ہے کہ وہ جنگ میں یوکرین کو ہونے والے نقصانات کی تلافی کرے۔ ازالہء جنگ کے حوالے سے اس قرارداد کی منظوری رکن ممالک کے سفیروں کے ایک ہنگامی اجلاس میں دی گئی۔ تاہم روس نے اس قرارداد پر کڑی تنقید کی ہے۔

جنگ نے بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں جن میں یخ بستہ موسم سرما میں مزید اضافہ ہوگا۔
© UNICEF/Denys Vostrikov

اقوام متحدہ اور شراکتداروں نے یوکرین میں ایک کروڑ پینتیس لاکھ افراد کو مدد فراہم کی

اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت دار جنگ سے متاثرہ لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو زندگی کے تحفظ میں مدد دینے کے لیے امداد بہم پہنچا رہے ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کی ایک ترجمان نے جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں صحافیوں کو صورتحال سے آگاہ کیا۔
UN Photo/Mark Garten

یوکرین اناج معاہدہ اور ایتھوپیا سمجھوتہ 'کثیرفریقی سفارتکاری' کی طاقت کا ثبوت ہیں: گوتیرش

اقوام متحدہ کے سربراہ نے دنیا بھر کے ممالک سے مصر میں ہونے والی کاپ 27 موسمیاتی کانفرنس میں شمال اور جنوب کے مابین اعتماد کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کی بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے معاہدے میں دوبارہ شمولیت اور ٹیگرے میں جنگ بندی کے ایتھوپیائی معاہدے سے کثیرفریقی سفارتکاری کی طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔

انتونیو گوتیرش نے اپنے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ خیرمقدمی بیان میں کہا کہ وہ ترکیہ کی ''سفارتی کوششوں'' کے مشکور ہیں۔ (فائل فوٹو)
UN Photo/Eskinder Debebe

سیکرٹری جنرل گوتیرش کا یوکرین سے اناج کی برآمد کے معاہدے میں روس کی واپسی کا خیرمقدم

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں روس کی جانب سے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام میں دوبارہ شمولیت کے فیصلے کا گرم جوش خیرمقدم کیا ہے۔ اس اقدام کی بدولت یوکرین سے بنیادی ضرورت کی قریباً دس ملین میٹرک ٹن خوراک دنیا بھر میں پہنچائی جا چکی ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش استنبول میں ترک صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ بحیرۂ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔
UNIC Ankara/Levent Kulu

بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے معاہدے سے روس کی دستبرداری پر سلامتی کونسل میں بحث

یوکرین سے اناج اور اس سے متعلقہ غذائی اشیا کی برآمد کے اہم معاہدے کو حالیہ جنگ اور دنیا بھر میں رہن سہن کے اخراجات کے بحران کے ہوتے ہوئے برقرار رکھا جانا چاہیے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے دو اعلیٰ سطحی حکام نے سوموار کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی۔

روس، یوکرین، ترکی، اور اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی ایک مشترکہ ٹیم نے اس سال اگست میں مال برادر جہاز روزنی کے ذریعے اناج کی ترسیل کا جائزہ لیا تھا۔
© UNOCHA/Levent Kulu

بحیرہِ اسود کے راستے اناج کی ترسیل میں ’تعطل‘ پر اقوام متحدہ کے سربراہ کو گہری تشویش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے روس کی جانب سے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام میں اپنی شمولیت معطل کرنے کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ معاہدہ یوکرین سے بنیادی ضرورت کی خوراک اور کھادوں کی باقی دنیا کو ترسیل بحال کرنے کے لیے طے پایا تھا۔

یوکرین کی فیکٹری میں مکئی اتاری جا رہی ہے۔
© FAO/Genya Savilov

اقوام متحدہ کی کوششوں سے ہونے والی یوکرین کے اناج کی رسد نے خوراک کا بحران کم کیا ہے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) کی جمعرات کو شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے زیرقیادت بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کے اقدام نے کس طرح ان لاکھوں لوگوں کو امید مہیا کی ہے جو خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جنگ زدہ یوکرین سے عام استعمال ہونے والی غذائی اجناس کی ترسیل میں کمی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔