جہنم کا منظر: ایک امدادی کارکن کا دورہ غزہ کا آنکھوں دیکھا حال
غزہ میں داخلے کی مشکلات، ایندھن کی کمی اور امدادی سامان کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر کے باعث ضرورت مند لوگوں کو مدد پہنچانے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔
غزہ میں داخلے کی مشکلات، ایندھن کی کمی اور امدادی سامان کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر کے باعث ضرورت مند لوگوں کو مدد پہنچانے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن کے حوثی باغیوں سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر تمام حملے بند کرنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد منظور کر لی ہے۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی ایک مشکل اور پریشان کن عمل بن گیا ہے جبکہ علاقے میں شدید لڑائی بدستور جاری ہے اور لوگوں کو بے پایاں تکالیف کا سامنا ہے۔
نو مہینے سے جنگ کا شکار غزہ میں قحط کا خطرہ برقرار ہے اور غذائی تحفظ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں 20 فیصد سے زیادہ گھرانوں کو اکثر دن بھر کوئی خوراک میسر نہیں آتی۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انرا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا ہے فلسطینیوں کو غربت، نفرت، انتقام اور جنگ کا سامنا ہے۔ اگر بلاتاخیر امدادی وسائل مہیا نہ کیے گئے تو ان کی پوری نسل کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اسرائیل اور لبنانی حزب اللہ جنگجوؤں کے مابین بڑھتے ہوے تشدد اور جارحانہ بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غلط سمت میں کوئی بھی قدم پورے خطے کے لیے تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی حکام نے کہا ہے کہ نو ماہ سے جاری جنگ میں غزہ تباہی کا گڑھ بن گیا ہے جہاں بارہا نقل مکانی کرنے والے لوگ شدید خوف اور مایوسی کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی حکام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے لوگوں کو سخت گرمی، شدید لڑائی، بیماریوں اور نظم و نسق کے فقدان کا سامنا ہے جبکہ اشیائے ضرورت کی قلت نے ان کے لیے بقا کی جدوجہد کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے بتایا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی بمباری میں جنگی قوانین کو تواتر سے پامال کیا گیا، علاقے میں انتہائی طاقتور بم برسائے گئے اور حملوں میں جنگجوؤں اور شہریوں کے مابین کوئی تمیز روا نہیں رکھی گئی۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کو بے رحمانہ قرار دیتے ہوئے حماس کی قید میں تمام یرغمالیوں کی رہائی کے مطالبے کو دہرایا ہے۔