غزہ: بچوں کی صفائی کا خیال رکھتی رفح کی ڈائپر فیکٹری
غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں پانی اور نکاسی آب کی شدید قلت کے حالات میں ایک فیکٹری مقامی طور پر حاصل کردہ سامان سے ڈائپر تیار کر رہی ہے جن سے روزانہ سینکڑوں بچوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔
غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں پانی اور نکاسی آب کی شدید قلت کے حالات میں ایک فیکٹری مقامی طور پر حاصل کردہ سامان سے ڈائپر تیار کر رہی ہے جن سے روزانہ سینکڑوں بچوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ غزہ میں طبی نظام تیزی سے غیرفعال ہوتا جا رہا ہے جہاں 36 ہسپتالوں میں سے 10 ہی کسی حد تک کام کر رہے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کی جانے والی شدید بمباری میں اب تک 212 سکولوں کو براہ راست نشانہ بنایا جا چکا ہے جن میں 53 مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
وسطی غزہ کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پلاسٹک اور لکڑی سے بنے ایک خیمے میں رات کے وقت بڑی تعداد میں لالٹینیں روشن ہیں جو یہاں رہنے والے بچوں نے رمضان کی خوشی میں سجائی ہیں۔
مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار ٹور وینزلینڈ نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے جنگ زدہ علاقے میں لوگوں کو درپیش سنگین مشکلات اور مغربی کنارے میں تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار فرانچسکا البانیز نے کہا ہے کہ یہ یقین کرنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
فوری جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کے باوجود غزہ میں تشدد جاری ہے جہاں گزشتہ شب اسرائیل کی عسکری کارروائیوں میں درجنوں بچوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یمن کا تنازع 10 ویں برس میں داخل ہو گیا ہے اور اس موقع پر اقوام متحدہ کے امدادی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں نصف سے زیادہ آبادی کو انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل ارکان کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں غزہ میں فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کونسل کے پندرہ میں سے چودہ ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ امریکہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک اور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ خونریزی مسئلےکا حل نہیں ہے۔