غزہ ایک کھنڈر میں بدل چکا ہے، یو این امدادی ادارہ
غزہ میں چھ روزہ جنگ بندی کا آج آخری روز ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا ہے کہ لوگوں کی تکالیف میں کمی لانے کے لیے امن کے وقفے میں مزید توسیع کی جائے۔
غزہ میں چھ روزہ جنگ بندی کا آج آخری روز ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا ہے کہ لوگوں کی تکالیف میں کمی لانے کے لیے امن کے وقفے میں مزید توسیع کی جائے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں امداد کی ترسیل میں بڑے پیمانے پر اضافہ نہ کیا گیا تو زخمی لوگوں کی زندگی کو خطرہ ہو گا اور علاقے میں جان لیوا بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔
جنگ بندی کے بعد غزہ کے شمالی علاقے میں پہلی مرتبہ لوگوں کو غذائی امداد اور صاف پانی میسر آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دفتر نے کہا ہے کہ روزبروز ابتر ہوتے انسانی حالات میں مستقل امن ضروری ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے روز اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے بڑی مقدار میں امدادی سامان علاقے میں پہنچایا ہے۔ ہفتے کو یہ سامان لے کر 61 ٹرک علاقے میں پہنچے جو ایک روز کے دوران پہنچائی جانے والی سب سے بڑی امداد ہے۔
مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار ٹور وینزلینڈ نے حماس کی قید سے 13 اسرائیلی شہریوں سمیت 24 افراد کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے۔
غزہ میں چار روزہ جنگ بندی کا آغاز ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے اداروں نے اس پر عملدرآمد اور توسیع کی امید کرتے ہوئے تمام لوگوں کو امداد کی فراہمی کی ضرورت واضح کی ہے۔
غزہ میں عارضی جنگ بندی اور حماس کی قید میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ طے پانے کے بعد امدادی ادارے علاقے میں مدد پہنچانے کے لیے تیار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس معاہدے پر جمعے سے پہلے عملدرآمد کے آغاز کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔
اقوام متحدہ کے تین اداروں کی سربراہوں نے غزہ کی جنگ میں خواتین اور بچوں کی حفاطت کے لیے اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے حماس کی قید میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اس معاہدے کے مثبت اثرات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے تیار ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں ہر 10 منٹ کے بعد ایک اور روزانہ 160 بچے ہلاک ہو رہے ہیں۔ علاقے میں بڑے پیمانے پر بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں یہ تعداد اس سے کہیں بڑھ سکتی ہے۔