انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان

یو این ویمن کی سربراہ سیما باحوس کا کہنا ہے کہ طالبان ملک بھر میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو منظم انداز اور وسیع پیمانے پر نشانہ بنا رہے ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی (فائل فوٹو)۔
UN Photo/Eskinder Debebe

طالبان کو خواتین کے ساتھ اپنے سلوک پر نظرثانی کرنی چاہیے: سیما باحوس

صنفی مساوات کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ویمن' کی سربراہ سیما باحوس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں تبدیلی کے لیے وہاں کے حکمرانوں پر دباؤ جاری رکھے۔

صوبہ بلخ کے شہر مزار شریف میں لڑکیوں کا ایک سکول۔
© UNICEF/Mark Naftalin

طالبان کے دو سال: افغان لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اقوام متحدہ کی مہم

اقوام متحدہ کے فنڈ 'تعلیم انتظار نہیں کر سکتی' (ای سی ڈبلیو) نے تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رکھی جانے والی افغان لڑکیوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے ایک مہم شروع کی ہے۔

خواتین افغانستان کے واحد زچہ ہسپتال میں معائنے کے لیے اپنی باری کی منتظر کھڑی ہیں۔
© UNICEF/Shehzad Noorani

افغانستان: ’اصلاح پسند طالبان‘ کا وجود ایک غلط فہمی ہے، ماہرین

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین نے کہا ہے کہ افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے دو سال بعد بھی طالبان بدستور بہت سے انسانی حقوق کو پامال کر رہے ہیں جن میں لڑکیوں اور خواتین کا استحصال سرفہرست ہے۔

منشیات کے عادی افراد کے علاج کے کابل میں ابن سینا سنٹر کے باہر ایک مریض۔
UN News / David Mottershead

افغانستان میں منشیات سے نمٹنے کی معلومات پر مبنی حکمت عملی

افغان دارالحکومت کابل کی مصروف سڑکوں گلیوں میں یوں تو بہت سے خطرات چھپے ہوئے ہیں لیکن وہاں منشیات کے استعمال کا بحران سب سے زیادہ خطرناک ہے جو شہر اور پورے ملک کو برباد کر رہا ہے۔

وسطی افغانستان کا دور دراز علاقہ دائیکنڈی۔
© UNICEF/Mark Naftalin

’خواتین پر پابندیاں طالبان حکومت کے قانونی جواز میں رکاوٹ‘

افغانستان میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حکمرانوں کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد کردہ بہت سی پابندیاں طالبان کی اندرون و بیرون ملک ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور ملک بھر میں بھی ان پابندیوں کی مخالفت پائی جاتی ہے۔

قندھار کے ایک گاؤں میں موبائل ہیلتھ یونٹ کی نرسیں خواتین کو گھر گھر جا کر طبی خدمات مہیا کرتی ہیں۔
© UNOCHA/Charlotte Cans

افغانستان: طالبان ’صنفی عصبیت‘ کے ممکنہ قصوروار، انسانی حقوق ماہرین

سوموار کو انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں افغان خواتین اور لڑکیوں کی حالت زار موضوع بحث رہی جہاں انسانی حقوق کے لئے اقوام متحدہ کے متعین کردہ غیر جانبدار ماہرین نے منظم "صنفی عصبیت" اور "صنفی بنیاد پر مظالم" کے بارے میں خبردار کیا۔

جسمانی سزاؤں کے جن 18 واقعات کی تفصیل سامنے آئی ہے ان میں 33 مردوں اور 22 خواتین کو سزا دی گئی جن میں دو لڑکیاں بھی شامل تھیں۔
© UNICEF/Mohammad Haya Burhan

طالبان جسمانی سزائیں دینا بند کریں: اقوام متحدہ

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یونیما) نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حکمرانوں کی جانب سے لوگوں کو جسمانی سزائیں دینے کے اقدامات بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں جنہیں بند ہونا چاہیے۔

خواتین نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین کو  اپنے خوف اور شدید خدشات پر مبنی محسوسات سے آگاہ کیا اور کہا کہ ان کی صورتحال گھر میں نظربند رہنے جیسی ہے۔
© UNICEF/Salam Al-Janabi

افغانستان جیسی صنفی تفریق کی مثال کہیں نہیں ملتی: یو این ماہرین

اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے افغان لڑکیوں اور خواتین کے سکول جانے اور کام کرنے پر پابندی سمیت ان کے حقوق کے خلاف منظم کارروائی کے بعد ملک میں بہت سی ایسی اموات واقع ہو سکتی ہیں جنہیں روکا جا سکتا ہے۔