انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان

پاکستان کی حکومت نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ قانونی دستاویزات کے بغیر ملک میں رہنے والے تمام غیرملکی یکم نومبر تک رضاکارانہ طور پر واپس چلے جائیں،
Mehrab Afridi

افغان مہاجرین کی طبی ضروریات کے لیے دس ملین ڈالر درکار

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ پاکستان سے واپس آنے والے افغان پناہ گزینوں میں بیماریاں پھوٹنے کا خدشہ ہے۔ ادارے نے ایسے سات لاکھ لوگوں کی طبی مدد کے لیے 10 ملین ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

15 ستمبر اور 11 نومبر کے درمیانی عرصہ میں 327,000 سے زیادہ لوگ پاکستان سے افغانستان جا چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر نے گرفتاری کے خوف سے ملک چھوڑا ہے۔
Mehrab Afridi

پاکستان میں افغان مہاجرین کے ساتھ ’بدسلوکی‘ پر تُرک کو تشویش

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے پاکستان سے ملک بدر کیے جانے والے افغان شہریوں کے ساتھ بدسلوکی اور انہیں گرفتار کیے جانے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان کے صوبہ کاپسیا میں پوست کی فصل۔
UNODC

افغانستان میں پوست کی کاشت میں 95 فیصد کمی یو این سروے

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے بتایا ہے کہ افغانستان میں افیون کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے تاہم اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے کسانوں کو متبادل روزگار کے حصول میں مدد دینا ہو گی۔

پاکستان میں پناہ لیے افغان خاندان واپسی کے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔
© UNHCR/Caroline Gluck

ملک بدری: پاکستان بچوں اور خاندانوں کا تحفظ یقینی بنائے، یو این ادارے

پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو واپسی کا حکم دیے جانے کے بعد ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ افغان پناہ گزین ملک چھوڑ چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے ملک بدر کیے جانے والے افغان بچوں اور خاندانوں کے تحفظ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

گرفتاریوں اور ملک بدری سے بچنے کے لیے بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن میں افغان خاندان مہاجر کیمپ چھوڑ رہے ہیں۔
Muhammad Faisal

ملک بدری: پاکستان میں افغان مہاجرین مشکل صورتحال سے دوچار

چالیس سالہ رحمان جان چمن کے قندھاری بازار میں پھل سبزیوں کا ٹھیلہ لگاتے ہیں۔ ان کا تعلق افغانستان کے صوبہ قندھار سے ہے۔ وہ اکتوبر 2021 میں ہجرت کرکے پاکستان آئے اور چمن کی بستی حاجی گل شاہ میں رہنے لگے جہاں ان کے چند رشتہ دار تقریباً 35 سال سے مقیم ہیں۔ پچھلے دو سال انہوں نے اس خوف میں گزارے ہیں کہ کہیں انہیں پاکستان سے بے دخل نہ کر دیا جائے اور اب ان کا یہ خدشہ یقین میں بدلنے لگا ہے۔

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار رچرڈ بینیٹ (فائل فوٹو)۔
UNAMA/Fardin Waezi

طالبان سے انسانی حقوق کی خواتین کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ

انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے مقرر کردہ غیرجانبدار ماہرین نے افغانستان میں ایک ماہ سے قید انسانی حقوق کی کارکنوں ندا پروان، زولیہ پارسی اور ان کےاہلخانہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

افغانستان کے علاقے قندھار میں نقل مکانی پر مجبور ایک خاندان اپنا سامان اٹھائے پناہ کی تلاش میں نکلا ہوا ہے۔
© UNOCHA/Sayed Habib Bidel

انسانی حقوق: پاکستان افغان مہاجرین کی ملک بدری معطل کرے

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو واپس بھیجے جانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک میں 14 لاکھ افغان پناہ گزین غیرمتناسب طور سے متاثر ہوں گے۔

رچرڈ بینیٹ نے کہا کہ افغانستان سے بہت سے گروہوں نے ان کے سامنے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ بین الاقوامی برادری ملک کی اس صورتحال سے سمجھوتہ کرنے لگی ہے (فائل فوٹو)۔
UN Photo/Manuel Elías

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سمیت افغانستان کو کئی مسائل کا سامنا

افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار رچرڈ بینیٹ کا کہنا ہے کہ ملک کو انسانی حقوق، معاشی بگاڑ، مہاجرین کی واپسی اور زلزلوں کی صورت میں سنگین بحرانوں کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔

افغانستان کے صوبے بدخشان میں ایک خاندان اقوام متحدہ سے ملنے والی امدادی خوراک سے تیارکردہ کھانا کھا رہا ہے۔
© WFP/Sadeq Naseri

افغانستان: یورپی یونین انسانی امداد کا خیرمقدم

افغانستان میں اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے یورپی یونین کی جانب سے ملک کے لیے 21.6 ملین ڈالر کی انسانی امداد کا خیرمقدم کیا ہے جس سے غیرمحفوظ اور غذائی قلت کا شکار 21 ملین لوگوں کی زندگیوں محفوظ بنائی جا سکیں گی۔

عالمی اداری صحت کا عملہ افغانستان کے زلزلہ زدہ علاقے میں زخمیوں کو طبی امداد دینے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
© WHO/Zakarya Safari

افغانستان میں آئے زلزلوں کے ذہنی و جسمانی صحت پر گہرے اثرات

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) نے کہا ہے کہ افغانستان میں آنے والے پے در پے زلزلوں میں اپنا سب کچھ کھو دینے والے لوگوں کو سخت سردی میں بقا کے لیے فوری مدد کی ضرورت ہے۔