انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان

کابل میں خواتین اور لڑکیوں کی بڑی تعداد کو لباس کے حوالے سے انتباہ جاری کیے گئے ہیں اور ان کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
© UNOCHA/Charlotte Cans

لباس پر طالبان کے احکامات کی عدم تعمیل پر گرفتاریوں کی مذمت

  • افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یونیما) نے طالبان حکام کی جانب سے اسلامی لباس پہننے کے حکم کی مبینہ عدم تعمیل پر خواتین اور لڑکیوں کو گرفتار اور قید کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سولہ دسمبر 2023 تک 4 لاکھ 71 ہزار سے زیادہ افغان پناہ گزین پاکستان سے واپس جا چکے تھے۔
Asim Khan

جانیے: افغان مہاجرین اور پاکستان میں پناہ گزینوں کے قوانین بارے

حکومتِ پاکستان نے ’غیرقانونی‘ طور پر مقیم تارکین وطن کو ملک چھوڑنے کا حکم دے رکھا ہے۔ 26 ستمبر کو ایسے لوگوں کے لیے یکم نومبر تک رضاکارانہ واپسی کی مہلت جاری کرتے ہوئے اعلان کیا گیا تھا کہ مقررہ مدت میں واپس نہ جانے والوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا اور اکتیس دسمبر کے بعد انہیں 100 ڈالر ماہانہ جرمانے کا بھی سامنا ہوگا۔

افغانستان کو عالمی ادارہِ خوراک کی طرف سے فراہم کی گئی گندم جلال آباد میں اتاری جا رہی ہے۔
© WFP/Danijela Milic

افغانستان: انڈیا کی امدادی گندم سے 50 لاکھ لوگوں کو خوارک کی فراہمی

گزشتہ ڈیڑھ برس میں انڈیا کی حکومت نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کو 50 ہزار میٹرک ٹن گندم عطیہ کی ہے جس سے تقریباً 50 لاکھ ضرورت مند لوگوں کو خوراک میسر آئی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کا سماجی و معاشی کردار روزبروز کم ہوتا جا رہا ہے۔
© OCHA/Charlotte Cans

طالبان کو عالمی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی، یونیما چیف

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یونیما) کی سربراہ روزا اوتنبائیوا نے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کے معاملے پر طالبان سے کوئی رعایت نہیں برتی جا سکتی۔

رچرڈ بینیٹ کا کہنا ہے کہ طالبان اسلام کے نام پر اور افغان روایات کی اپنی مخصوص تشریح کے تحت خواتین اور لڑکیوں کو سماجی زندگی سے علیحدہ کرتے ہیں۔
UN News

افغانستان میں خواتین تحفظ کے نام پر امتیاز کا نشانہ، رچرڈ بینیٹ

افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار رچرڈ بینیٹ نے پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کو واپس بھیجے جانے کے فیصلے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ان افغانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان میں پناہ لیے ہوئے افغان مہاجرین وطن واپس جانے پر مجبور ہیں۔
Asim Khan

پاکستان سے افغانستان واپس آنے والے مہاجرین کو بھوک اور سردی کا سامنا

اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے کہا ہے کہ پاکستان سے ملک بدر کیے جانے والے افغان خاندانوں کو ہنگامی مدد کی فراہمی مالی وسائل کی قلت کے باعث غیریقینی کا شکار ہے۔

افغانستان میں یو این ایچ سی آر کا عملہ اور اس کے شراکت دار پاکستان کے ساتھ ننگرہار اور قندھار کی سرحدی گزرگاہوں پر آنے والے لوگوں کی مدد میں مصروف ہیں۔
© UNHCR/Caroline Gluck

یو این ایچ سی آر کو پاکستان میں افغان مہاجرین بارے تشویش

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے پاکستان سے غیر رجسٹرڈ افغانوں کو واپس بھیجنے کے فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عجلت اور خوف میں ملک چھوڑنے والوں کو مشکل حالات کا سامنا ہے۔

پاکستان سے واپسی اختیار کرنے والے افغان شہریوں کے لیے طورخم کی سرحد پر عبوری کیمپ بنایا گیا ہے جہاں انہیں بائیومیٹرک جانچ پڑتال کے بعد افغانستان بھیجا جاتا ہے۔
Mehrab Afridi

پاکستان سے لوٹنے والے افغان مہاجرین کو غیر یقینی مستقبل کا سامنا

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے پاکستان سے واپس آنے والے افغانوں کی مدد کے لیے مالی وسائل مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو افغانستان میں غیریقینی مستقبل کا سامنا ہے۔