خواتین کی شمولیت کے بغیر افغانستان کا کوئی مستقبل نہیں
افغان خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے حق رائے دہی حاصل کر لیا تھا لیکن آج طالبان کی حکمرانی میں انہیں عوامی زندگی سے خارج کر دیا گیا ہے۔
افغان خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے حق رائے دہی حاصل کر لیا تھا لیکن آج طالبان کی حکمرانی میں انہیں عوامی زندگی سے خارج کر دیا گیا ہے۔
افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ روزا اوتنبائیوا نے بتایا ہے کہ طالبان حکمرانوں کے نئے قوانین کے باعث ملک میں خواتین کی صورتحال اور انسانی حقوق کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
افغانستان میں کابل اور حکومت پر طالبان کے قبضے کے تین سال ہونے اور اس دوران خواتین اور لڑکیوں پر تعلیم اور سماجی زندگی کے دروازے بند ہونے کے باوجود خواتین کے حقوق کا اقوام متحدہ کا ادارہ یو این وومن حقوق کے لئے لڑنے والی افغان عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ مشکل حالات میں بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔