انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان

طالبات ہرات میں یونیسف کی مدد سے کام کرنے والے ایک سکول میں جون 2022 میں داخل ہو رہی ہیں۔
UNICEF / Mark Naftalin

افغان خواتین پر نا ختم ہونے والی پابندیوں کا سلسلہ جاری، یو این رپورٹ

افغانستان میں خواتین کے حقوق سلب کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ سال کی آخری سہ ماہی کے دوران سیکڑوں خواتین کو نوکریاں چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا اور ضروری خدمات تک رسائی سے محروم رکھا گیا۔

یونیسکو کی خواندگی مہم کے تحت چلنے والے اداروں میں زیرتعلیم خواتین و لڑکیاں پہلی دفعہ لکھنے پڑھنے سے روشناس ہو رہی ہیں۔
© UNESCO/Navid Rahi

افغانستان کی معاشی بحالی میں خواتین کی شمولیت اہم، یو این ڈی پی

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے کہا ہے کہ اگست 2021 کے بعد ملک کو تاریک سماجی و معاشی حالات کا سامنا ہے۔ بحرانوں پر قابو پانے کے لیے خواتین کی معاشی شمولیت کو مرکزی اہمیت دینا ہو گی۔

کابل میں خواتین اور لڑکیوں کی بڑی تعداد کو لباس کے حوالے سے انتباہ جاری کیے گئے ہیں اور ان کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
© UNOCHA/Charlotte Cans

لباس پر طالبان کے احکامات کی عدم تعمیل پر گرفتاریوں کی مذمت

  • افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یونیما) نے طالبان حکام کی جانب سے اسلامی لباس پہننے کے حکم کی مبینہ عدم تعمیل پر خواتین اور لڑکیوں کو گرفتار اور قید کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سولہ دسمبر 2023 تک 4 لاکھ 71 ہزار سے زیادہ افغان پناہ گزین پاکستان سے واپس جا چکے تھے۔
Asim Khan

جانیے: افغان مہاجرین اور پاکستان میں پناہ گزینوں کے قوانین بارے

حکومتِ پاکستان نے ’غیرقانونی‘ طور پر مقیم تارکین وطن کو ملک چھوڑنے کا حکم دے رکھا ہے۔ 26 ستمبر کو ایسے لوگوں کے لیے یکم نومبر تک رضاکارانہ واپسی کی مہلت جاری کرتے ہوئے اعلان کیا گیا تھا کہ مقررہ مدت میں واپس نہ جانے والوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا اور اکتیس دسمبر کے بعد انہیں 100 ڈالر ماہانہ جرمانے کا بھی سامنا ہوگا۔