انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان

افغانستان میں اس سال مئی میں آئے سیلاب کی تباہی کا ایک منظر۔
© IOM

افغانستان: طوفانی بارشوں اور سیلاب میں چالیس افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ (یو این ایچ سی آر) افغانستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو مدد پہنچانے میں مصروف ہے۔ ملک کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں آنے والے سیلاب میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور  340 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

افغانستان میں یو این ایچ سی آر کا عملہ اور اس کے شراکت دار پاکستان کے ساتھ ننگرہار اور قندھار کی سرحدی گزرگاہوں پر آنے والے لوگوں کی مدد میں مصروف ہیں (فائل فوٹو)۔
© UNHCR/Caroline Gluck

پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی فخریہ میزبانی جاری رکھنے کی اپیل

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے پاکستان میں رہنے والے افغانوں کے مستقبل سے متعلق طویل مدتی اقدامات اور ان کی میزبان آبادیوں کی مدد کے لیے کوششوں کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔

قیام امن و سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو دوحہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی ہیں۔
UN News

دوحہ کانفرنس: طالبان اور افغان عوام میں اعمتاد کی بحالی پر زور

قیام امن و سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے افغانستان میں حکمرانوں اور معاشرے میں اعتماد کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق یقینی بنانے کے کام میں حمایت اور تعاون فراہم کرتا رہے گا۔

روزمیری ڈی کارلو کے مطابق افغانستان اپنی نصف آبادی کو حقوق اور مواقع سے محروم رکھ کر نہ تو بین الاقوامی برادری کا حصہ بن سکتا ہے اور نہ ہی معاشی و سماجی طور پر ترقی کر سکتا ہے۔
© UN Women/Sayed Habib Bidell

دوحہ کانفرنس: طالبان کو خواتین کے حقوق بآور کرانے کی یو این کوشش

افغانستان کے لیے ممالک کے خصوصی نمائندوں کی تیسری کانفرنس میں خواتین اور لڑکیوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے کا معاملہ بات چیت کے خاص موضوعات میں شامل ہے۔ پہلی مرتبہ ملک کے طالبان حکمران بھی اس کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔

سی ای ڈی اے ڈبلیو کمیٹی نے عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ افغان حکمرانوں کے ساتھ رابطوں میں خواتین کے حقوق پر بات چیت کو یقینی بنائے۔
© IOM/Mohammad Osman Azizi

افغانستان پر دوحہ کانفرنس میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے پر تشویش

خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے پر اقوام متحدہ کی کمیٹی (سی ای ڈی اے ڈبلیو) نے قطر میں افغانستان کے بارے میں ہونے والے اجلاس میں ملکی خواتین اور لڑکیوں کی عدم شرکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان کے علاقے بغلان میں گزشتہ ماہ آنے والے سیلاب سے ہوئی تباہی کا ایک منظر۔
© UNICEF/Amin Meerzad

افغانستان: امدادی ضروریات میں تشویشناک اضافہ، یو این اہلکار

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یونیما) نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ ملک میں امدادی ضروریات تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہیں اور غربت نے ملکی آبادی کو قدرتی آفات کا آسان شکار بنا دیا ہے۔

خواتین کے کام کرنے پر طالبان کی پابندیوں کے بعد بے روزگار ہو کر گھر بیٹھی خاتون اپنے بچوں کے ساتھ۔
© UN Women/Sayed Habib Bidell

خواتین کے حقوق غصب کرنے پر طالبان کے بین الاقوامی احتساب کا مطالبہ

افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار رچرڈ بینیٹ نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی منظم پامالی میں شدت آ گئی ہے جس کے نقصان دہ اثرات آنے والی نسلوں تک برقرار رہیں گے۔

گزشتہ برس کے آغاز میں 40 سے زیادہ افغان طالبات نے روانڈا میں سولا کے تحت کام کرنے والے سکول میں داخلہ لیا تھا اور اب ان کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
IOM/Robert Kovacs

حصول علم کے لیے روانڈا پہنچنے والی افغان لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ

افغانستان میں طالبات کے ثانوی تعلیم حاصل کرنے پر پابندی کے بعد بہت سی لڑکیاں افریقی ملک روانڈا منتقل ہو گئی ہیں جہاں وہ تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنے روشن مستقبل کے لیے پرامید ہیں۔

طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد لڑکیوں کو پرائمری تعلیم کے بعد مزید پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔
© UN Women/Sayed Habib Bidell

افغانستان: طالبان کے ہاتھوں خواتین کے حقوق غصب ہونے کا سلسلہ جاری

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے بتایا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں تین سال سے خواتین کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں اور اب خواتین سرکاری ملازمین کی اجرتیں کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جنہیں کام سے پہلے ہی روکا جا چکا ہے۔