افغانستان: معاشی بدحالی کا شکار خاندانوں کو خوارک کی ہنگامی فراہمی
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے گزشتہ نو مہینوں میں افغانستان کے 37 ہزار گھرانوں پر مشتمل دو لاکھ 60 ہزار لوگوں کو ہنگامی غذائی مدد فراہم کی ہے۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے گزشتہ نو مہینوں میں افغانستان کے 37 ہزار گھرانوں پر مشتمل دو لاکھ 60 ہزار لوگوں کو ہنگامی غذائی مدد فراہم کی ہے۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ (یو این ایچ سی آر) افغانستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو مدد پہنچانے میں مصروف ہے۔ ملک کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں آنے والے سیلاب میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور 340 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے پاکستان میں رہنے والے افغانوں کے مستقبل سے متعلق طویل مدتی اقدامات اور ان کی میزبان آبادیوں کی مدد کے لیے کوششوں کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔
قیام امن و سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے افغانستان میں حکمرانوں اور معاشرے میں اعتماد کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق یقینی بنانے کے کام میں حمایت اور تعاون فراہم کرتا رہے گا۔
افغانستان کے لیے ممالک کے خصوصی نمائندوں کی تیسری کانفرنس میں خواتین اور لڑکیوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے کا معاملہ بات چیت کے خاص موضوعات میں شامل ہے۔ پہلی مرتبہ ملک کے طالبان حکمران بھی اس کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔
خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے پر اقوام متحدہ کی کمیٹی (سی ای ڈی اے ڈبلیو) نے قطر میں افغانستان کے بارے میں ہونے والے اجلاس میں ملکی خواتین اور لڑکیوں کی عدم شرکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یونیما) نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ ملک میں امدادی ضروریات تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہیں اور غربت نے ملکی آبادی کو قدرتی آفات کا آسان شکار بنا دیا ہے۔
افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے خصوصی اطلاع کار رچرڈ بینیٹ نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی منظم پامالی میں شدت آ گئی ہے جس کے نقصان دہ اثرات آنے والی نسلوں تک برقرار رہیں گے۔
افغانستان میں طالبات کے ثانوی تعلیم حاصل کرنے پر پابندی کے بعد بہت سی لڑکیاں افریقی ملک روانڈا منتقل ہو گئی ہیں جہاں وہ تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنے روشن مستقبل کے لیے پرامید ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے بتایا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں تین سال سے خواتین کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں اور اب خواتین سرکاری ملازمین کی اجرتیں کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں جنہیں کام سے پہلے ہی روکا جا چکا ہے۔