یو این ڈے پر منقسم دنیا سے اقوام متحدہ بننے کا عہد
اقوام متحدہ کے قیام کی 78ویں سالگرہ پر سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا میں امن، پائیدار ترقی اور سبھی کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنا ادارے کی ذمہ داری ہے۔
اقوام متحدہ کے قیام کی 78ویں سالگرہ پر سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا میں امن، پائیدار ترقی اور سبھی کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنا ادارے کی ذمہ داری ہے۔
غزہ پر اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 5,087 ہو گئی ہے جبکہ 1,000 سے زیادہ لوگ لاپتہ ہیں۔ مصر سے تیسرا امدادی قافلہ غزہ پہنچ گیا ہے جبکہ امدادی ادارے جنگ بندی اور مزید مدد بھیجنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مصر سے رفح کے سرحدی راستے سے 20 ٹرکوں پر مشتمل پہلا امدادی قافلہ غزہ پہنچ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ امدادی سامان کو فوری، متواتر، بڑی مقدار میں اور محفوظ طریقے سے غزہ بھیجنا ضروری ہے۔
مشرق وسطیٰ، ایشیا اور الکاہل کے لیے اقوام متحدہ کے معاون سیکرٹری جنرل خالد خیاری نے کہا ہے کہ نئے عالمی نظام کی جانب ممکنہ منتقلی نے سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے اور ان حالات میں سفارت کاری اور مکالمے کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔
غزہ میں اسرائیل اور حماس کے مابین حالیہ دنوں تشدد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے اور مکمل جنگ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایسے بحرانوں میں اقوام متحدہ سیاسی اور امدادی محاذوں پر نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے افغانستان میں حالیہ زلزلوں سے متاثرہ لوگوں کو ہنگامی غذائی مدد مہیا کرنے کے لیے 19 ملین ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ معاشی ترقی، اچھے روزگار کی تخلیق، توانائی کے نظام میں تبدیلی لانے اور پائیدار ترقی کے فروغ میں بنیادی ڈھانچے کی خاص اہمیت ہے اور اس شعبے میں درپیش مسائل کو مواقع میں تبدیل کرنا ہو گا۔
دنیا میں بعض انتہائی خطرناک جگہوں پر لوگوں کی بہت بڑی تعداد کو امدادی خوراک، ادویات، ہنگامی تعلیم اور پناہ کیسے مہیا جاتی ہے؟ اقوام متحدہ افغانستان، ہیٹی، سوڈان، یوکرین اور مقبوضہ فلسطینی علاقے سمیت دنیا بھر میں یہ کام کرتا ہے۔
اسرائیل اور فلسطین کے تنازع میں ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے غیرجانبدار کمیشن نے کہا ہے کہ متحارب فریقین شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے موثر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اتوار کو افغانستان کے مغربی علاقے میں آنے والے ایک اور زلزلے نے پہلے ہی اس قدرتی آفت کے دو بڑے دھچکوں سے متاثرہ لوگوں کی تکالیف میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے جنہیں آنے والی سخت سردی میں بقا کے خطرے کا سامنا ہے۔